صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
68. باب بدء الخلق - ذكر وصف الداعي الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم ولو لبثت في السجن ما لبث يوسف لأجبت الداعي-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف اس دعوت دینے والے کی جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر میں جیل میں یوسف جتنا وقت رہتا تو دعوت دینے والے کا جواب دیتا
حدیث نمبر: 6207
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ جَاءَنِي الدَّاعِي الَّذِي جَاءَ إِِلَى يُوسُفَ، لأَجَبْتُهُ، وَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ إِِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ، إِِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، فَمَا بَعَثَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنْ نَبِيٍّ إِِلا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" لأَجَبْتُ الدَّاعِيَ"، لَفْظَةُ إِِخْبَارٍ عَنْ شَيْءٍ مُرَادُهَا مَدْحَ مَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ خِطَابُ الْخَبَرِ فِي الْمَاضِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بلانے والا سیدنا یوسف علیہ السلام کو بلانے آیا تھا وہ میرے پاس آتا تو میں اس کے ساتھ چلا جاتا سیدنا یوسف علیہ السلام نے اس سے کہا: تھا۔ ”تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے دریافت کرو کہ ان خواتین کا کیا بنا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔“ اللہ تعالیٰ سیدنا لوط علیہ السلام پر رحم کرے انہوں نے ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لینے کا ارادہ کیا تھا، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ”اگر میرے پاس تمہارے مقابلے میں قوت ہوئی تو ٹھیک ہے ورنہ میں ایک مضبوط پناہ گاہ کی پناہ لے لوں گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم میں مبعوث کیا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ کہ میں بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا اس میں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ جس شخصیت کے بارے میں روایت کے الفاظ واقع ہوئے ہیں ان کی تعریف کی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6207]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ کہ میں بلانے والے کے ساتھ چلا جاتا اس میں لفظی طور پر اطلاع دی گئی ہے لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ جس شخصیت کے بارے میں روایت کے الفاظ واقع ہوئے ہیں ان کی تعریف کی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6207]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3372، 3375، 3387، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5776، 6206، 6207، 6208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2966، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4026، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1097، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8395» «رقم طبعة با وزير 6174»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1867).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن