🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. باب بدء الخلق - ذكر سؤال كليم الله ربه أن يعلمه شيئا يذكره-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ کلیم اللہ نے اپنے رب سے کچھ سکھانے کی درخواست کی کہ وہ اسے یاد کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6218
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " قَالَ مُوسَى: يَا رَبِّ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، وَأَدْعُوكَ بِهِ، قَالَ: قُلْ يَا مُوسَى: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، قَالَ: يَا رَبِّ، كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا، قَالَ: قُلْ: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، قَالَ: إِِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ، قَالَ: يَا مُوسَى، لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالأَرَضِينَ السَّبْعِ فِي كِفَّةٍ، وَلا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، مَالَتْ بِهِمْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار تو مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دے جس کے ذریعے میں تیرا ذکر کروں، جس کے ہمراہ میں تجھ سے دعا کروں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ تم یہ پڑھو۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار تیرے سارے بندے یہ کلمہ پڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم لا الہ الا اللہ پڑھو، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی چیز ہو جو میرے ساتھ خاص ہو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ اگر سات آسمانوں کے رہنے والے اور سات زمینوں کے رہنے والے لوگ ایک پلڑے میں ہوں اور لا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں ہو، تو لا الہ الا اللہ والا پلڑا جھک جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6218]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1942، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10602، 10913، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1393» «رقم طبعة با وزير 6185»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 238 - 239).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں