صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
137. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر ما يمنع الله جل وعلا كيد كفار قريش عن المصطفى صلى الله عليه وسلم والصديق عند خروجهما من مكة إلى المدينة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے کفار قریش کے مکر کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق سے مکہ سے مدینہ جاتے وقت روکا
حدیث نمبر: 6280
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ ، يَقُولُ:" جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهَا حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ لا أُرَاهَا إِِلا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ: إِِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا، انْطَلِقُوا بِنَا، ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً، ثُمَّ قُمْتُ، فَدَخَلْتُ بَيْتِي، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي، فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ، فَخَطَطْتُ بِهِ الأَرْضَ، فَأَخْفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِِذَا رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ حَيْثُ يَسْمِعُهُمُ الصَّوْتُ، عَثَرَ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِِلَى كِنَانَتِي، فَاسْتَخْرَجْتُ الأَزْلامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ، فَعَصَيْتُ الأَزْلامَ، وَرَكِبْتُ فَرَسِي، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي، حَتَّى إِِذَا سَمِعْتُ" قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الالْتِفَاتَ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الأَرْضِ، حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَزَجَرْتُهَا، فَنَهَضْتُ وَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً، إِِذَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ، قَالَ مَعْمَرٌ: قُلْتُ لأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ: مَا الْعُثَانُ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ: فَاسْتَقْسَمْتُ بِالأَزْلامِ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لا أَضُرَّهُمْ، فَنَادَيْتُهُمَا بِالأَمَانِ، فَوَقَفَا، فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي، حَتَّى لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ أَسْفَارِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ، فَلَمْ يَرْزَءُونِي شيئًَا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي، إِِلا أَنْ قَالُوا: أَخْفِ عَنَّا، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ، فَأَمَرَ بِهِ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ بَيْضَاءَ" .
عبدالرحمن بن مالک، جو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ کفارِ قریش کے پیغام رساں ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کو قتل کرنے یا قید کرنے والے شخص کے لیے انعام مقرر کیا تھا۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنی قوم بنو مدلج کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، اس نے کہا: ”اے سراقہ! میں نے کچھ دیر پہلے ساحل کی طرف آدمیوں کا ہیولیٰ دیکھا ہے، میرا خیال ہے وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہوں گے۔“ سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ وہی ہوں گے، میں نے (اسے ٹالنے کے لیے) کہا: ”وہ لوگ وہ نہیں ہوں گے، تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہو گا جو ہمارے پاس سے گئے ہیں۔“ پھر میں اس محفل میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا، پھر میں اٹھا اور اپنے گھر آگیا، میں نے اپنی کنیز سے کہا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے، وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، اس نے وہ میرے لیے تیار کر کے رکھا، میں نے اپنا نیزہ پکڑا اور گھر کے پیچھے کی طرف سے نکل گیا، میں نے اس کے ذریعے زمین پر لکیریں لگائیں اور میں نے نیزے کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا یہاں تک کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا، میں اپنا گھوڑا دوڑاتا رہا یہاں تک کہ مجھے ان لوگوں کا ہیولیٰ نظر آیا۔ جب میں اتنا قریب ہوا کہ میری آواز ان تک جا سکتی تھی، تو میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور میں اس پر سے نیچے گر گیا، میں نے اپنا ہاتھ اپنے ترکش کی طرف بڑھایا اور اس میں سے پانسے نکالنے والے تیر نکالے، میں نے اس میں سے پانسے کا تیر نکالا تو وہ نتیجہ سامنے آیا جسے میں پسند نہیں کرتا تھا، میں نے پانسے کے فیصلے کو نہیں مانا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا، پھر میں نے ایڑھ لگائی یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی آواز سنی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ میرے گھوڑے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے، یہاں تک کہ وہ گھٹنوں تک زمین میں چلے گئے اور میں اس پر سے نیچے گر گیا، میں نے اسے ڈانٹا اور پھر میں اٹھ گیا لیکن اس کے دونوں پاؤں زمین سے نہیں نکل رہے تھے، پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اسی دوران آسمان میں ایک چمک دار دھواں نظر آیا۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں: انہوں نے ابوعمرو نامی راوی سے دریافت کیا کہ یہاں لفظ «عُثَان» سے کیا مراد ہے؟ وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے: ”اس سے مراد وہ دھواں ہے جو آگ کی وجہ سے نہ ہو۔“ معمر بیان کرتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ میں نے پھر تیروں کے ذریعے پانسہ نکالا تو وہی نتیجہ سامنے آیا جو میں پسند نہیں کرتا تھا، وہ یہ کہ میں ان لوگوں کو نقصان نہ پہنچاؤں، میں نے امان کے ساتھ ان دونوں صاحبان کو پکارا تو وہ دونوں صاحبان ٹھہر گئے، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا، جب میں ان حضرات کے پاس پہنچنے سے رک گیا تھا (یعنی میرا گھوڑا آگے بڑھنے کے قابل نہیں رہا تھا) تو میرے ذہن میں یہ خیال آ گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ عنقریب غالب آ جائے گا۔ میں نے کہا: ”آپ کی قوم کے افراد نے آپ کے بارے میں انعام مقرر کیا ہے“، میں نے ان حضرات کو ان کے معاملے کے بارے میں بتایا اور لوگوں کا ان کے بارے میں جو ارادہ ہے وہ بھی بتایا اور انہیں زاد سفر اور ساز و سامان کی پیش کش کی لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور مجھ سے صرف یہ کہا: ”ہمارے معاملے کو پوشیدہ رکھنا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے سفید چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحریر لکھ کر دے دی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6280]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6280، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4292، 4451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17865، والطبراني فى(الكبير) برقم: 6601» «رقم طبعة با وزير 6247»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - «مختصر البخاري»، «تخريج فقه السيرة» (ص 129).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح