صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
138. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر وصف قدوم المصطفى صلى الله عليه وسلم وأصحابه المدينة عند هجرتهم إلى يثرب-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر وصف کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب یثرب ہجرت کرتے وقت مدینہ پہنچے
حدیث نمبر: 6281
أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ رَحْلا بِثَلاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِِلَى أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ عَازِبٌ: لا، حَتَّى تُحَدِّثُنِي كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ، وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ؟، فَقَالَ: " ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ فَأَحْيَيْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي: هَلْ نَرَى ظِلا نَأْوِي إِِلَيْهِ؟ فَإِِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَيْهَا، فَإِِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا، فَسَوَّيْتُهُ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاضْطَجَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْظُرُ، هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا؟ فَإِِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِِلَى الصَّخْرَةِ، يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أُرِيدُ، يَعْنِي: الظِّلَّ، فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلامُ؟، قَالَ الْغُلامُ: لِفُلانِ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُهُ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا، وَضَرَبَ إِِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَقَدْ رَوَيْتُ مَعِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرُدَ أَسْفَلُهُ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَشَرِبَ، فَقُلْتُ: قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، فَقُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: لا تَحْزَنْ إِِنَّ اللَّهَ مَعَنَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قِيدُ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثٍ، قُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَحِقَنَا، فَبَكَيْتُ، قَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟، قُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ، قَالَ: فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ فِي الأَرْضِ إِِلَى بَطْنِهَا، فَوَثَبَ عَنْهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّينِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، فَوَاللَّهِ لأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي، فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا، فَإِِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا حَاجَةَ لَنَا فِي إِِبِلِكَ، وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِِلَى أَصْحَابِهِ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلا، فَتَنَازَعَهُ الْقَوْمُ أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنِّي أَنْزِلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ، فَخَرَجَ النَّاسُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي الطُّرُقِ، وَعَلَى الْبُيُوتِ مِنَ الْغِلْمَانِ وَالْخَدَمِ يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، انْطَلَقَ، فَنَزَلَ حَيْثُ أُمِرَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144، قَالَ: وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمُ الْيَهُودُ: مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا سورة البقرة آية 142، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ سورة البقرة آية 142، قَالَ: وَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَخَرَجَ بَعْدَمَا صَلَّى، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا إِِلَى الْكَعْبَةِ، قَالَ الْبَرَاءُ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ مَكَانَهُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ أَتَى بَعْدَهُ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ، فَقُلْنَا: مَا فَعَلَ مَنْ وَرَاءَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ؟ قَالَ: هُمُ الآنَ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَبِلالٌ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ رَاكِبًا، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُمْ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، قَالَ الْبَرَاءُ: فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ خَرَجْنَا نَلْقَى الْعِيرَ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ حَذِرُوا" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (میرے والد سے) تیرہ درہم کے عوض میں ایک پالان خریدا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ براء کو ہدایت کریں کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر پہنچا دے، تو سیدنا عازب نے ان سے کہا: ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ جب آپ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے اور مشرکین آپ کی تلاش میں تھے تو آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آئی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا ہم لوگ مکہ سے روانہ ہوئے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب دن چڑھ گیا تو میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا ہمیں کوئی سایہ دار جگہ نظر آ رہی ہے، جس کی پناہ میں ہم چلے جائیں۔ وہاں ایک چٹان موجود تھی۔ میں اس کے پاس آیا جس کا تھوڑا سا سایہ تھا۔ میں نے وہاں زمین کو درست کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بچھونا بچھا دیا، پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ لیٹ جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے پھر میں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا مجھے کوئی ایسا شخص نظر آ رہا ہے جو ہماری تلاش میں ہو وہاں مجھے بکریوں کا ایک چرواہا نظر آیا جو اپنی بکریاں لے کر چٹان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ بھی چٹان سے وہی فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا جو میں چاہتا تھا یعنی سائے میں آنا چاہتا تھا میں نے اس سے دریافت کیا۔ میں نے کہا: تم کس کے (ملازم یا غلام) ہو نوجوان نے کہا: میں فلاں شخص کا (غلام ہوں) اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا جس سے میں واقف تھا میں نے دریافت کیا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے کہا: کیا تم میرے لئے اسے دوہ دو گے۔ اس نے کہا: جی ہاں میں نے اسے ہدایت کی تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی۔ میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس کے تھنوں سے غبار کو صاف کر دے، پھر میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ جھاڑ لے پھر راوی نے اس طرح کر کے دکھایا یعنی ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر دکھایا پھر اس نے دودھ کا ایک پیالہ مجھے دوہ کر دیا۔ میں اپنے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک برتن لے کر آیا تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے وہ (پانی) دودھ پر انڈیلا، یہاں تک کہ اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اسے پی لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! روانگی کا وقت ہو گیا، پھر ہم لوگ روانہ ہوئے۔ لوگ ہماری تلاش میں تھے ان میں سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکا۔ صرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ہم تک آ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ایک تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ چکا ہے، تو میں رو پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غمگین نہ ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ جب وہ ہمارے قریب ہوا اور ہمارے اور اس کے درمیان دو یا تین نیزوں جتنا فاصلہ رہ گیا تو میں نے عرض کی: یا رسول الله ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ تلاش میں آنے والا شخص ہمارے قریب پہنچ چکا ہے۔ میں پھر رو پڑا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم کیوں رو رہے ہو۔ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے حوالے سے نہیں رو رہا بلکہ میں آپ کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعائے ضرر کی آپ نے کہا: اے اللہ! تو اس کے حوالے سے ہمارے لئے جیسے تو چاہے کافی ہو جا، راوی کہتے ہیں؟ تو اس شخص کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ شخص اس سے اترا اور بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آپ کا کام ہے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ میں جس مصیبت کا شکار ہوا ہوں وہ مجھے اس سے نجات عطا کر دے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے موجود آپ کی تلاش میں آنے والے لوگوں کو بھٹکا دوں گا یہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے ایک تیر لے لیجئے۔ آپ کا گزر فلاں مقام پر میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے ہو گا۔ وہاں آپ اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں حاصل کر لیجئے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمیں تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں دعا کی تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے، لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کس کے ہاں پڑاؤ کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج رات میں بنو نجار کے ہاں پڑاؤ کروں گا۔ وہ جناب عبدالمطلب کے ننھیال ہیں۔ میں اس حوالے سے ان کی عزت افزائی کروں گا۔
(سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو لوگ راستوں میں نکل آئے۔ گھروں کے اوپر بچے اور خادم موجود تھے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ نے اس جگہ پڑاؤ کیا جہاں آپ کو حکم دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 16 یا شاید 17 ماہ تک بیت مقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ آپ کی یہ خواہش تھی کہ آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”ہم آسمان کی طرف تمہارے چہرے کا اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ ہم عنقریب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس سے تم راضی ہو، تو تم اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔“ راوی کہتے ہیں: کچھ بے وقوف لوگوں نے (راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہودی ہیں) یہ کہا: ان لوگوں کو اس قبلہ سے کس نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”تم یہ فرما دو مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب کرتا ہے۔“
راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص نے نماز ادا کی۔ وہ نماز ادا کرنے کے بعد وہاں سے نکلا۔ اس کا گزر کچھ انصاریوں کے پاس سے ہوا جو عصر کی نماز میں رکوع کی حالت میں بیت مقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے۔ اس نے گواہی دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے تو وہ لوگ اسی وقت پلٹ پڑے۔ انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مہاجرین میں سے سب سے پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے جن کا تعلق بنو عبددار سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی جگہ پر ہیں، البتہ آپ کے ساتھی میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔ ان کے بعد سیدنا عمرو بن ام مکتوم نابینا رضی اللہ عنہ آئے جن کا تعلق بنو فہر سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا۔ آپ کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کا کیا حال ہے تو انہوں نے بتایا: وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ اس کے بعد سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے 20 ساتھیوں کے ہمراہ سوار ہو کر ہمارے پاس آئے، پھر ان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی تشریف آوری سے پہلے میں مفصل سورتوں کا علم حاصل کر چکا تھا، پھر ہم (دشمن کے) قافلے کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلے تو ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ اپنا بچاؤ کر چکے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6281]
(سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب ہم لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو لوگ راستوں میں نکل آئے۔ گھروں کے اوپر بچے اور خادم موجود تھے۔ وہ یہ کہہ رہے تھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ آپ نے اس جگہ پڑاؤ کیا جہاں آپ کو حکم دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 16 یا شاید 17 ماہ تک بیت مقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ آپ کی یہ خواہش تھی کہ آپ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”ہم آسمان کی طرف تمہارے چہرے کا اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ ہم عنقریب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس سے تم راضی ہو، تو تم اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔“ راوی کہتے ہیں: کچھ بے وقوف لوگوں نے (راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہودی ہیں) یہ کہا: ان لوگوں کو اس قبلہ سے کس نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”تم یہ فرما دو مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب کرتا ہے۔“
راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص نے نماز ادا کی۔ وہ نماز ادا کرنے کے بعد وہاں سے نکلا۔ اس کا گزر کچھ انصاریوں کے پاس سے ہوا جو عصر کی نماز میں رکوع کی حالت میں بیت مقدس کی طرف رخ کئے ہوئے تھے۔ اس نے گواہی دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے تو وہ لوگ اسی وقت پلٹ پڑے۔ انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مہاجرین میں سے سب سے پہلے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے جن کا تعلق بنو عبددار سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی جگہ پر ہیں، البتہ آپ کے ساتھی میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔ ان کے بعد سیدنا عمرو بن ام مکتوم نابینا رضی اللہ عنہ آئے جن کا تعلق بنو فہر سے تھا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا۔ آپ کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کا کیا حال ہے تو انہوں نے بتایا: وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ اس کے بعد سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے 20 ساتھیوں کے ہمراہ سوار ہو کر ہمارے پاس آئے، پھر ان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ کی تشریف آوری سے پہلے میں مفصل سورتوں کا علم حاصل کر چکا تھا، پھر ہم (دشمن کے) قافلے کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلے تو ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ اپنا بچاؤ کر چکے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6281]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6248»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3615).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري