🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
137. فصل في هجرته صلى الله عليه وسلم إلى المدينة وكيفية أحواله فيها - ذكر ما يمنع الله جل وعلا كيد كفار قريش عن المصطفى صلى الله عليه وسلم والصديق عند خروجهما من مكة إلى المدينة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے کفار قریش کے مکر کو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق سے مکہ سے مدینہ جاتے وقت روکا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6280
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ ، وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ ، يَقُولُ:" جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ، أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهَا حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ لا أُرَاهَا إِِلا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ: إِِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا، انْطَلِقُوا بِنَا، ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً، ثُمَّ قُمْتُ، فَدَخَلْتُ بَيْتِي، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي، فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ، فَخَطَطْتُ بِهِ الأَرْضَ، فَأَخْفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِِذَا رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ حَيْثُ يَسْمِعُهُمُ الصَّوْتُ، عَثَرَ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِِلَى كِنَانَتِي، فَاسْتَخْرَجْتُ الأَزْلامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ، فَعَصَيْتُ الأَزْلامَ، وَرَكِبْتُ فَرَسِي، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي، حَتَّى إِِذَا سَمِعْتُ" قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الالْتِفَاتَ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الأَرْضِ، حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَزَجَرْتُهَا، فَنَهَضْتُ وَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً، إِِذَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ، قَالَ مَعْمَرٌ: قُلْتُ لأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ: مَا الْعُثَانُ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ: فَاسْتَقْسَمْتُ بِالأَزْلامِ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لا أَضُرَّهُمْ، فَنَادَيْتُهُمَا بِالأَمَانِ، فَوَقَفَا، فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي، حَتَّى لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ أَسْفَارِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ، فَلَمْ يَرْزَءُونِي شيئًَا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي، إِِلا أَنْ قَالُوا: أَخْفِ عَنَّا، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ، فَأَمَرَ بِهِ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ بَيْضَاءَ" .
عبدالرحمن بن مالک جو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نہ کے بھانجے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے یہ بات بتائی ہے۔ انہوں نے سیدنا سراقہ کو یہ بیان کرتے سنا کفار قریش کے پیغام رصاع ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کو قتل کرنے یا قید کرنے والے شخص کے لئے انعام مقرر کیا تھا۔ سیدنا سراقہ بیان کرتے ہیں: میں اپنی قوم بنو مدلج کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا: اے سراقہ میں نے کچھ دیر پہلے ساحل کی طرف آدمیوں کا ہیولیٰ دیکھا ہے۔ میرا خیال ہے وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھی ہوں گے۔ سراقہ کہتے ہیں: مجھے بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ وہی ہوں گے۔ میں نے کہا: وہ لوگ وہ نہیں ہوں گے تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہو گا۔ وہ ہمارے پاس سے گئے ہیں پھر میں اس محفل میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر میں اٹھا اپنے گھر میں آیا۔ میں نے اپنی کنیز سے کہا: وہ میرا گھوڑا نکالے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا۔ وہ اس نے میرے لئے تیار کر کے رکھا میں نے اپنا نیزہ پکڑا اور گھر کے پیچھے کی طرف سے نکل گیا۔ میں نے اس کے ذریعے زمین پر لکیریں لگائیں۔ میں نے نیزے کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا یہاں تک کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا میں اپنا گھوڑا دوڑاتا رہا یہاں تک کہ مجھے ان لوگوں کا ہیولیٰ نظر آیا۔ جب میں اتنا قریب ہوا کہ میری آواز ان تک جا سکتی تھی، تو میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور میں اس پر سے نیچے گر گیا۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنی کمان کی طرف بڑھایا اور اس میں سے پانسے نکالنے والے تیر نکالے میں نے اس میں سے پانسے کا تیر نکالا تو وہ چیز سامنے آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ میں نے پانسے کے فیصلے کو نہیں مانا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا پھر میں نے ایڑھ لگائی، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی آواز سنی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ میرے گھوڑے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے، یہاں تک کہ وہ گھٹنوں تک زمین میں چلے گئے میں اس پر سے نیچے گر گیا۔ میں نے اسے ڈانٹا اور پھر میں اٹھ گیا، لیکن اس کے دونوں پاؤں زمین سے نہیں نکلے پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اسی دوران آسمان میں ایک چمک دار دھواں نظر آیا۔
معمر نامی راوی کہتے ہیں: انہوں نے ابوعمرو نامی راوی سے دریافت کیا یہاں لفظ عثان سے مراد کیا ہے وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر وہ بولے: اس سے مراد وہ دھواں ہے جو آگ کی وجہ سے نہ ہو۔ معمر بیان کرتے ہیں: زہری نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ میں نے پھر تیروں کے ذریعے پانسہ نکالا، تو وہ نتیجہ سامنے آیا جو میں پسند نہیں کرتا تھا وہ یہ کہ میں ان لوگوں کو نقصان نہ پہنچاؤں میں نے امان کے ہمراہ ان دونوں صاحبان کو پکارا تو وہ دونوں صاحبان ٹھہر گئے۔ میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا جب میں ان حضرات کے پاس پہنچنے سے رک گیا تھا (یعنی میرا گھوڑا آگے بڑھنے کے قابل نہیں رہا تھا) تو میرے ذہن میں یہ خیال آ گیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ عنقریب غالب آ جائے گا۔ میں نے کہا: آپ کی قوم کے افراد نے آپ کے بارے میں انعام مقرر کیا ہے میں نے ان حضرات کو ان کے معاملے کے بارے میں بتایا اور لوگوں کا ان کے بارے میں جو ارادہ ہے وہ بھی بتایا اور انہیں زاد سفر اور ساز و سامان کی پیش کش کی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور مجھ سے صرف یہ کہا: ہمارے معاملے کو پوشیدہ رکھنا میں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ میرے لئے ایک تحریر لکھ دیں، جس میں انعام دینے کا وعدہ کیا گیا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا تو انہوں نے سفید چمڑے پر مجھے تحریر لکھ کر دیدی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6280]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6247»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - «مختصر البخاري»، «تخريج فقه السيرة» (ص 129).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سراقة بن جعشم المدلجي، أبو سفيانصحابي
👤←👥مالك بن جعشم المدلجي
Newمالك بن جعشم المدلجي ← سراقة بن جعشم المدلجي
له إدراك
👤←👥عبد الرحمن بن مالك المدلجي
Newعبد الرحمن بن مالك المدلجي ← مالك بن جعشم المدلجي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الرحمن بن مالك المدلجي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن المتوكل القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن المتوكل القرشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← محمد بن المتوكل القرشي
ثقة