🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

217. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر وصف مفاتيح خزائن الأرض حيث أتي صلى الله عليه وسلم في نومه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وصف کہ زمین کے خزانوں کی چابیاں جب صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دی گئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6364
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسِ أَبْلَقَ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا کی چابیاں میرے پاس ایک ابلق گھوڑے پر لاد کر لائی گئیں، جس پر ریشم کی بنی ہوئی چادر موجود تھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6364]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6330»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (1730).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6365
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" جَلَسَ جِبْرِيلُ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِِلَى السَّمَاءِ، فَإِِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا الْمَلَكُ مَا نَزَلَ مُنْذُ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ، فَلَمَّا نَزَلَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرْسَلَنِي إِِلَيْكَ رَبُّكَ: أَمَلَكًا جَعَلَكَ لَهُمْ أَمْ عَبْدًا رَسُولا؟ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا، بَلْ عَبْدًا رَسُولا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا جس سے ایک فرشتہ نازل ہوا، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ فرشتہ آج سے پہلے کبھی بھی نازل نہیں ہوا، تو وہ نیچے آ گیا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پروردگار نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہے، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہ بنا دے یا بندے اور رسول رہنا چاہتے ہیں؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تواضع اختیار کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ میں بندہ اور رسول رہنا چاہتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6365]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6331»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 112)، «الصحيحة» (1002).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں