صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
218. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن أصحاب الحديث يصححون من الأخبار ما لا يعقلون معناها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ اہل حدیث ایسی خبروں کو صحیح مانتے ہیں جن کے معنی وہ نہیں سمجھتے
حدیث نمبر: 6366
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُرِّمَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ مُدَّةً، ثُمَّ أُحِلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ قَبْلَ مَوْتِهِ تَفَضُّلا تُفُضِّلَ عَلَيْهِ حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرِ وَالْكِتَابِ تَضَادُّ وَلا تَهَاتِرُ، وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى هَذَا قَوْلُ عَائِشَةَ: مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَلَّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ، أَرَادَتْ بِذَلِكَ: إِِبَاحَةً بَعْدَ حَظْرٍ مُتَقَدِّمٍ عَلَى مَا ذَكَرْنَا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چیز حلال قرار نہیں دی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی چاہیں شادیاں کر سکتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تعداد سے زیادہ خواتین کے ساتھ شادی کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہو اور پھر آپ کے وصال سے پہلے (کسی بھی متعین تعداد کے بغیر) خواتین کے ساتھ شادی کرنا حلال قرار دیدیا گیا ہو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا جانے والا خصوصی فضل تھا۔ اس صورت میں حدیث اور کتاب اللہ کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا اور اس بات پر دلالت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قبول کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا، جب تک آپ کے لئے (کسی متعین تعداد کے بغیر) خواتین (کے ساتھ شادی کرنا) حلال قرار نہیں دیدیا گیا، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس کے ذریعے مراد یہ ہے: یہ ایک ایسی اباحت تھی جو اس سے پہلے موجود ممنوعیت کے بعد آئی جیسا کہ ہم پہلے ذکر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6366]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تعداد سے زیادہ خواتین کے ساتھ شادی کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہو اور پھر آپ کے وصال سے پہلے (کسی بھی متعین تعداد کے بغیر) خواتین کے ساتھ شادی کرنا حلال قرار دیدیا گیا ہو۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا جانے والا خصوصی فضل تھا۔ اس صورت میں حدیث اور کتاب اللہ کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا اور اس بات پر دلالت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قبول کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا، جب تک آپ کے لئے (کسی متعین تعداد کے بغیر) خواتین (کے ساتھ شادی کرنا) حلال قرار نہیں دیدیا گیا، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس کے ذریعے مراد یہ ہے: یہ ایک ایسی اباحت تھی جو اس سے پہلے موجود ممنوعیت کے بعد آئی جیسا کہ ہم پہلے ذکر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6366]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6332»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3224).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 6367
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقُولُ: تَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا؟ فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ سورة الأحزاب آية 51، قَالَتْ: قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِِلا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے ان خواتین پر بڑا غصہ آتا تھا جو خود کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کے لیے پیش کر دیتی تھی میں یہ سوچا کرتی تھی کیا کوئی عورت بھی اپنے ساتھ شادی کی پیشکش کر سکتی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ» (الأحزاب: 51) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے دیکھا ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6367]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6333»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين