سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
232. باب رَفْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْمِنْبَرِ
باب: خطبہ میں امام کا منبر پر دونوں ہاتھ اٹھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1104
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: رَأَى عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ وَهُوَ يَدْعُو فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ عُمَارَةُ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ. قَالَ زَائِدَةُ: قَالَ حُصَيْنٌ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا يَزِيدُ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ".
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن (منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے (یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے (جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1104]
جناب حصین بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے بشر بن مروان کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے روز (اثنائے خطبہ میں ہاتھ اٹھا کر) دعا کر رہا تھا (ہاتھ ہلا رہا تھا) تو عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ ان دونوں ہاتھوں کو رسوا کرے۔“ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین رحمہ اللہ نے کہا: مجھے عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ نہیں کرتے تھے، یعنی صرف شہادت کی انگلی (اٹھانے پہ اکتفا کرتے تھے) جو انگوٹھے سے ملی ہوتی ہے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (874)، سنن الترمذی/الصلاة 254 (الجمعة 19) (515)، سنن النسائی/الجمعة 29 (1413)، (تحفة الأشراف: 10377)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/135، 136، 261)، سنن الدارمی/الصلاة 201 (1601) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (874)
حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ،عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرِهِ وَلَا عَلَى غَيْرِهِ، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا: وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَعَقَدَ الْوُسْطَى بِالْإِبْهَامِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے منبر پر دعا مانگتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ غیر منبر پر، بلکہ میں نے آپ کو اس طرح کرتے دیکھا اور انہوں نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور بیچ کی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1105]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یا اس کے علاوہ دعا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کرتے تھے“ اور اشارہ کر کے دکھایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگشت شہادت اٹھاتے اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنا لیتے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 4804)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/337) (ضعیف)» (اس کے راوی عبد الرحمن بن اسحاق اور عبد الرحمن بن معاویہ پر کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ما رأيت رسول اللّٰه ﷺ شاھرًا يديه قط
سنده ضعيف
عبد الرحمن بن معاوية بن الحويرث ضعيف ضعفه الجمھور كما ھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 186
ما رأيت رسول اللّٰه ﷺ شاھرًا يديه قط
سنده ضعيف
عبد الرحمن بن معاوية بن الحويرث ضعيف ضعفه الجمھور كما ھو الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 186