سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
239. باب إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: امام خطبہ دے رہا ہو اور آدمی مسجد میں داخل ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ" أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَارْكَعْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟“، اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اٹھ کر نماز پڑھو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1115]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جمعہ کے دن ایک شخص آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 25 (1166)، والجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، (تحفة الأشراف: 2511)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1113)، مسند احمد (3/297، 308، 369)، سنن الدارمی/الصلاة 96 (1406) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مسجد میں آئے تو وہ دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (930) صحيح مسلم (875)
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ،وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ" أَصَلَّيْتَ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم نے کچھ پڑھا؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1116]
جناب اعمش، ابوسفیان سے، وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش، ابوصالح سے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، دونوں کا بیان ہے کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تم نے کوئی نماز پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مختصر سی دو رکعتیں پڑھ لو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1114)، (تحفة الأشراف: 2294، 12368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (875)
حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، زَادَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزْ فِيهِمَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سلیک رضی اللہ عنہ آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی اور اتنا اضافہ کیا کہ پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1117]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ جناب سلیک آئے۔ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا۔ مزید یہ کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ مختصر سی دو رکعتیں پڑھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2339)، مسند احمد (3/297) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس ٹکڑے سے ان لوگوں کے قول کی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ لوگ ان کی خستہ حالت دیکھ کر ان کا تعاون کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1117)
انظر الحديث السابق (1117)