یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
239. باب إذا دخل الرجل والإمام يخطب
باب: امام خطبہ دے رہا ہو اور آدمی مسجد میں داخل ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ،وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ" أَصَلَّيْتَ شَيْئًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم نے کچھ پڑھا؟“، انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھ لو“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1116]
جناب اعمش، ابوسفیان سے، وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش، ابوصالح سے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، دونوں کا بیان ہے کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تم نے کوئی نماز پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مختصر سی دو رکعتیں پڑھ لو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 87 (1114)، (تحفة الأشراف: 2294، 12368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/316) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (875)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1116
| أصليت شيئا قال لا قال صل ركعتين تجوز فيهما |
سنن ابن ماجه |
1114
| أصليت ركعتين قبل أن تجيء قال لا قال فصل ركعتين وتجوز فيهما |
Sunan Abi Dawud Hadith 1116 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي