🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
408. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر صبر المصطفى صلى الله عليه وسلم على أذى المشركين وشفقته على أمته باحتساب الأذى في الرسالة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مصٹفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی ایذاء پر صبر کیا اور رسالت میں ایذاء کے حساب سے اپنی امت پر شفقت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6561
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ عَلَيْكَ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ:" لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمَكِ، وَكَانَ أَشَدُّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، إِِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلالٍ، فَلَمْ يُجِبْنِي إِِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي، فَنَظَرْتُ، فَإِِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَنَادَانِي، فَقَالَ: إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِِلَيْكَ مَلَكُ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ، قَالَ: فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ، وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ، إِِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ"، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا" .
سیدنا طارق بن عبدالله محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا۔ آپ نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا۔ آپ یہ فرما رہے تھے اے لوگو! لا اله الا اللہ پڑھ لو تم لوگ کامیاب ہو جاؤ گے۔ ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا اور آپ کو پتھر مارتا جا رہا تھا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں اور ٹخنوں کو لہولہان کر دیا تھا وہ یہ کہہ رہا تھا: اے لوگو! تم اس کی بات نہ مانو یہ جھوٹ بولتا ہے۔
(راوی کہتے ہیں:) میں نے دریافت کیا: یہ کون صاحب ہیں تو بتایا گیا یہ بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ہیں۔ میں نے دریافت کیا: جو شخص ان کے پیچھے آ کر انہیں پتھر مار رہا ہے وہ کون ہے تو اس نے بتایا یہ عبدالعزیٰ ابولہب ہے۔
(راوی کہتے ہیں:) جب اسلام غالب آ گیا تو ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ پر ٹھہر گئے۔ ہمارے ساتھ ایک عورت بھی تھی۔ ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس نے سلام کیا اور دریافت کیا: آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں۔ ہم نے جواب دیا: غبزہ۔ ربذہ راوی کہتے ہیں: ہمارے ساتھ اونٹ بھی تھے۔ اس شخص نے دریافت کیا: کیا تم لوگ اس اونٹ کو فروخت کرو گے۔ ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کتنے کے عوض میں۔ ہم نے جواب دیا: کھجوروں کے اتنے اور اتنے صاع کے عوض میں۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص سے سودا طے کر لیا اور اس نے ہمیں قیمت کم کرنے کے لئے نہیں کہا:۔ وہ بولا: میں یہ لے لیتا ہوں پھر وہ (اس اونٹ کو لے کر) مدینہ کے اندر چلے گئے اور (ہم سے چھپ گئے) ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کرنا شروع کی۔ ہم نے کہا: تم نے اپنا اونٹ ایک ایسے شخص کو دیدیا ہے جس سے تم واقف ہی نہیں ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو اس عورت نے کہا: تم لوگ ایک دوسرے کو ملامت نہ کرو کیونکہ میں نے ان صاحب کے چہرے پر ایک ایسی چیز دیکھی ہے کہ وہ تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے۔ میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو ان کے چہرے سے زیادہ چودھویں رات کے چاند سے مشابہت رکھتی ہو۔
راوی کہتے ہیں: جب شام کا وقت ہوا تو ایک شخص ہمارے پاس آیا اس نے ہمیں سلام کیا اور بولا: میں اللہ کے رسول کا پیغام رساں ہوں وہ یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ تم اس طرح کھاؤ کہ سیر ہو جاؤ اور اتنا ماپ لو کہ پوری ادائیگی کر لو۔
راوی کہتے ہیں: ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے۔ پھر ہم نے ماپ لیا، یہاں تک کہ ہم نے پوری وصولی کر لی۔ پھر ہم اگلے دن مدینہ منورہ کے اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر پر کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے:
دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور تم اپنے زیر کفالت سے خرچ کا آغاز کرو، جو تمہاری ماں تمہارا باپ تمہاری بہن تمہارا بھائی ہے پھر درجہ بہ درجہ قریبی لوگ ہیں پھر ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو ثعلبہ بن یربوع نے زمانہ جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کر دیا تھا۔ آپ ہمیں اس سے بدلہ دلوائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: خبردار! ماں بچے کی غلطی کی سزا نہیں بھگتے گی، خبردار ماں بچے کے جرم کا تاوان ادا نہیں کرے گی۔
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6561]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6527»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «بداية السول» (ص 68).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة