🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

432. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم سأل في علته نساءه أن يكون تمريضه في بيت عائشة رضي الله عنها-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں اپنی بیویوں سے درخواست کی کہ ان کی تیمارداری عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6588
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ: " اشْتَكَى، فَعَلِقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثِ آكِلِ الزَّبِيبِ، قَالَتْ: وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ، اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي وَيَدُرْنَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطَّانِ رِجْلاهُ الأَرْضَ، أَحَدُهُمَا: عَبَّاسٌ" ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لِي: مَا أَخْبَرْتَكَ بِالآخَرِ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ".
عبیداللہ بن عبدالله، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کے منہ میں دوائی ٹپکا دی تو آپ نے اشارہ کیا، تم لوگ میرے منہ مں دوائی نہ ٹپکاؤ، ہم نے سوچا جس طرح بیمار شخص دوا کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح ہے) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا میں نے تم لوگوں کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ۔ ہم نے عرض کی: (ہم تو یہ سمجھے تھے) جس طرح بیمار شخص دوائی کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح کی صورت حال ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہی تھی کیونکہ اس وقت وہ گھر میں موجود نہیں تھے (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ٹپکائی گئی تھی) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6588]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6554»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (687).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں