صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
433. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر العلة التي من أجلها استثنى عمه صلى الله عليه وسلم بالأمر باللدود الذي وصفناه-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر ان کے چچا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ لدود کے حکم کو استثناء کیا
حدیث نمبر: 6589
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِِلَيْنَا:" لا تَلُدُّونِي"، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ:" أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِيَ؟"، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ الدَّوَاءَ، فَقَالَ: " لا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِِلا لُدَّ"، وَأَنَا أَنْظُرُ إِِلَى الْعَبَّاسِ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْهُمْ .
عبید اللہ بن عبد اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ کے منہ میں دوائی ٹپکا دی تو آپ نے اشارہ کیا: ”تم لوگ میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ۔“ ہم نے سوچا جس طرح بیمار شخص دوا کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح ہے)؛ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں نے تم لوگوں کو اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم میرے منہ میں دوائی نہ ٹپکاؤ؟“ ہم نے عرض کی: (ہم تو یہ سمجھے تھے) جس طرح بیمار شخص دوائی کو ناپسند کرتا ہے (یہ بھی اسی طرح کی صورت حال ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھر میں موجود ہر شخص کے منہ میں دوائی ٹپکائی جائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ رہی تھی کیونکہ اس وقت وہ گھر میں موجود نہیں تھے (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ٹپکائی گئی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6589]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4458، 5712، 6886، 6897، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2213، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6589، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7048، 7542، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24901، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1933» «رقم طبعة با وزير 6555»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4458)، م (7/ 24). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null