🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

463. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أراد في اليوم الذي توفي فيه الخروج إلى أمته-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن جب وہ وفات پا گئے اپنی امت کے پاس جانے کا ارادہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6620
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ الْمُسْلِمِينَ بَيْنَا هُمْ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِهِمْ، لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، " فَنَظَرَ إِِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي صَلاتِهِمْ، ثُمَّ تَبَسَّمَ فَضَحِكَ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبِهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ إِِلَى الصَّلاةِ، قَالَ أَنَسٌ: وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلاتِهِمْ فَرَحًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ، فَأَشَارَ إِِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اقْضُوا صَلاتَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، وَتُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ خَطِيبًا، فَقَالَ: " لا أَسْمَعَنَّ أَحَدًا يَقُولُ: إِِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، إِِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنْ أَرْسَلَ إِِلَيْهِ رَبُّهُ كَمَا أَرْسَلَ إِِلَى مُوسَى، فَلَبِثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يُقَطِّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْدِي رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَاتَ" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدَةَ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ،" وَاللَّهِ لا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمُوتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَجْلِسَ، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ، فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ، فَمَالَ النَّاسُ إِِلَيْهِ، وَتَرَكُوا عُمَرَ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا، فَإِِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَإِِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لا يَمُوتُ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144"، قَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَنْزَلَ هَذِهِ الآيَةَ إِِلا حِينَ تَلاهَا أَبُو بَكْرٍ، فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَلَمْ تَسْمَعْ بَشَرًا إِِلا يَتْلُوهَا . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" وَاللَّهِ مَا هُوَ إِِلا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلاهَا عُقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلايَ، وَأَهْوَيْتُ إِِلَى الأَرْضِ، وَعَرَفْتُ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلاهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ" . قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنَ الْغَدِ حِينَ بُويِعَ أَبُو بَكْرٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوَى أَبُو بَكْرٍ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ عُمَرُ، فَتَشَهَّدَ قَبْلَ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ أَمْسِ مَقَالَةً لَمْ تَكُنْ كَمَا قُلْتُ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهَا فِي كِتَابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ، وَلا فِي عَهْدٍ عَهِدَهُ إِِلَيَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَدْبُرَنَا، يَقُولُ: حَتَّى يَكُونَ آخِرَنَا، فَاخْتَارَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عِنْدَهُ عَلَى الَّذِي عِنْدَكُمْ، وَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخُذُوا بِهِ تَهْتَدُوا بِمَا هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ لوگ پیر کے دن فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پردے کو ہٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف دیکھا، وہ نماز میں صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے قدموں پیچھے ہٹ کر صف میں شامل ہونے لگے۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائیں گے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی نماز کے بارے میں آزمائش کا شکار ہو جائیں، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی خوشی میں (اپنی نماز کو توڑ دیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اشارہ کیا: ”تم لوگ اپنی نماز کو مکمل کر لو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور لوگوں کے درمیان پردے کو گرا دیا۔ اسی دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور انہوں نے فرمایا: ”میں کسی بھی شخص کو یہ کہتے ہوئے ہرگز نہ سنوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ ان کے پروردگار نے ان کو بلایا ہے جس طرح اس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلایا تھا، تو وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے۔“ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے مجھے یہ بتایا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں یہ بھی کہا: ”مجھے یہ امید ہے کہ اللہ کے رسول ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیں گے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے۔“ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ «السُّنْحِ» ”سُنح“ میں موجود اپنے گھر سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے، وہ اس سے نیچے اترے اور مسجد میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کسی کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اندر آئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت یمنی چادر کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑے کو ہٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا اور رونے لگے، پھر انہوں نے کہا: ”میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں جمع نہیں کرے گا، جہاں تک اس موت کا تعلق تھا جو آپ پر لازم کی گئی تھی وہ موت آپ کو آ گئی ہے۔“ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابوسلمہ رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بتایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے۔ اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بیٹھ جاؤ۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (دوبارہ) کہا: ”بیٹھ جاؤ۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم میں جو شخص سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو (جان لے کہ) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ہے، اسے موت نہیں آئے گی۔“ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ [سورة آل عمران: 144] ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) رسول ہیں ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ انتقال کر جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاؤ گے؟ جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جائے گا وہ اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو عنقریب جزا عطا کرے گا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! یوں لگتا تھا جیسے لوگوں کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی ہے۔ انہیں اس بات کا علم اس وقت ہوا جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی تو سب لوگوں نے ان سے یہ آیت سیکھ لی اور ہر شخص اس کی تلاوت کر رہا تھا۔ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے مجھے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (بعد میں) بتایا: ”اللہ کی قسم! جب میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو میرے پاؤں کاٹ دیے گئے یہاں تک کہ میری ٹانگیں میرا وزن برداشت نہیں کر رہی تھیں، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک گیا جب میں نے انہیں یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو مجھے یقین ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔“ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: اگلے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جانے لگی تو انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر بیٹھ چکے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ کہا: ”امابعد! کل میں نے آپ لوگوں سے جو بات کہی تھی ویسا نہیں تھا جس طرح میں نے کہا تھا، اللہ کی قسم! میں نے نہ تو یہ بات اللہ کی کتاب میں پائی ہے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں کوئی ہدایت کی تھی، لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے عرصے تک زندہ رہیں گے کہ آپ کا وصال ہم سب کے بعد ہو گا (یہاں الفاظ میں راوی کو شک ہے) لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے اپنی بارگاہ کو اختیار کیا، اس چیز کے مقابلے میں جو تمہارے پاس ہے، تو یہ اللہ کی کتاب ہے، اس کے مطابق اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت دی تم اسے حاصل کر لو اور تم اس چیز کے ذریعے ہدایت حاصل کر لو جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6620]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 680، 681، 754، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 419، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 867، 1488، 1650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2065، 6620، 6875، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1830، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1624، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12255، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1222» «رقم طبعة با وزير 6586»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (470): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں