صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
588. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف الموضع الذي يكون ابتداء قتال المسلمين إياهم فيه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس مقام کی وصف جہاں سے مسلمانوں کا ان سے قتال شروع ہوگا
حدیث نمبر: 6747
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ كَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ، عِرَاضَ الْوجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، يَجِيئُونَ حَتَّى يَرْبُطُوا خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری امت کے کچھ لوگ ایک باغ میں پڑاؤ کریں گے، جس کا نام بصرہ ہو گا اس کے پاس ایک دریا ہو گا، جس کا نام دجلہ ہو گا اس پر ایک پل ہو گا وہاں کے رہنے والے لوگ زیادہ ہوں گے اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہو گا، جب آخری زمانہ آئے گا تو بنو قنطوراء آئیں گے یہ وہ قوم ہے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے یہاں تک کہ وہ دریا کے ایک کنارے پر پڑاؤ کریں گے تو وہاں کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے ایک گروہ اونٹوں کی دم اور جانوروں کی دم پکڑے گا وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ایک گروہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں گے اور کفر کریں گے ایک گروہ اپنے بال بچوں کو اپنی پشت کے پیچھے رکھیں گے اور وہ ان کے ساتھ لڑائی کرے گا یہ لوگ شہداء ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6747]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6712»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2429).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم