صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
596. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المدحض قول من نفى كون الخسف في هذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اس امت میں خسف نہیں ہوگا
حدیث نمبر: 6755
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ، خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِيهِمْ سِوَاهُمْ، وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ؟ قَالَ:" يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، ثُمَّ يَبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ" .
ابن قبطیہ بیان کرتے ہیں: میں، عبداللہ بن صفوان اور حارث بن ربیعہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ ہمیں لوگوں کو زمین میں دھنسائے جانے والی روایت بیان نہیں کریں گی، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ایک شخص بیت اللہ کی پناہ لے گا پھر اس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا، یہاں تک جب وہ کھلے میدان میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی جو شخص مجبوری کے عالم میں (ان کے ساتھ آیا ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بھی اس کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں زندہ کیا جائے گا، جو اس کے ذہن میں خیال تھا۔“ عبدالعزیز نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ابوجعفر (شاید اس سے مراد امام محمد الباقر ہیں) سے دریافت کیا: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہے: زمین کے کھلے حصے میں، تو امام ابوجعفر نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اس سے مراد مدینہ منورہ کا چٹیل میدان ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6755]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2118، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2884، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6755، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25377» «رقم طبعة با وزير 6720»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1622): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم