🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. باب مَنْ قَالَ يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ سارے لوگ ایک ساتھ تکبیر (تحریمہ) کہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1240
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ، قَالَ مَرْوَانُ: مَتَى؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ،" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ".
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ ابوہریرہ نے جواب دیا: ہاں، مروان نے پوچھا: کب؟ ابوہریرہ نے کہا: جس سال غزوہ نجد پیش آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی اور ان کی پیٹھیں قبلہ کی طرف تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی تو آپ کے ساتھ والے لوگوں نے اور ان لوگوں نے بھی جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے (سبھوں نے) تکبیر تحریمہ کہی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور آپ کے ساتھ کھڑی جماعت نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے قریب والی جماعت نے بھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور وہ جماعت بھی اٹھی جو آپ کے ساتھ تھی اور جا کر دشمن کے سامنے کھڑی ہو گئی، پھر وہ جماعت، جو دشمن کے سامنے کھڑی تھی (امام کے پیچھے) آ گئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کھڑے رہے جیسے تھے، پھر جب وہ جماعت (سجدہ سے) اٹھ کھڑی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا پھر جو جماعت دشمن کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی آ گئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو پہلے سے آپ کے ساتھ موجود تھے بیٹھے رہے، پھر سلام پھیرا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سبھی لوگوں نے مل کر سلام پھیرا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک رکعت۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1240]
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نمازِ خوف پڑھی ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! مروان نے پوچھا: کب؟ انہوں نے کہا: غزوۂ نجد کے سال۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ ایک گروہ تھا جبکہ دوسرا دشمن کے مقابل تھا اور قبلے کی طرف ان کی پشت تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر (تحریمہ) کہی اور سب نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی، آپ کے ساتھ والوں نے بھی اور انہوں نے بھی جو دشمن کے بالمقابل تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی۔ اس گروہ نے آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا جبکہ دوسرے لوگ دشمن کے سامنے کھڑے رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہو گیا۔ پھر یہ چلے گئے اور دشمن کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور دوسرا گروہ جو پہلے دشمن کے سامنے تھا (آپ کے پیچھے آ گیا) انہوں نے (اپنے طور پر) رکوع اور سجود کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدستور کھڑے رہے۔ پھر (جب یہ لوگ پہلی رکعت سے) کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی، انہوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجود کیا۔ پھر وہ گروہ بھی آ گیا جو دشمن کے سامنے تھا، انہوں نے (اپنے طور پر) رکوع اور سجود کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والے بیٹھے رہے۔ پھر سلام پھیرا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب نے اکٹھے سلام پھیرا۔ پس (اس طرح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (جماعت کے ساتھ) دو رکعتیں ہوئیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر ہر شخص کی ایک ایک رکعت۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الخوف 18(1544)، (تحفة الأشراف: 14606)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/320) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (1544 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1361، 1362 وسندھما حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1241
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْدٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ لَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَفْظُهُ" عَلَى غَيْرِ لَفْظِ حَيْوَةَ، وَقَالَ فِيهِ:" حِينَ رَكَعَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامُوا مَشَوْا الْقَهْقَرَى إِلَى مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرِ اسْتِدْبَارَ الْقِبْلَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں «حين ركع بمن معه وسجد» کے الفاظ ہیں، نیز اس میں ہے «فلما قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم» یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے ساتھیوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے، اس میں انہوں نے «استدبار قبلہ» (قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1241]
جناب عروہ بن زبیر، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ان کا بیان ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی جانب نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام نخل کے ذات الرقاع میں پہنچے تو بنو غطفان کی ایک جماعت سے مڈبھیڑ ہو گئی اور مذکورہ روایت کے ہم معنی بیان کیا، اس کے الفاظ حیوہ کے الفاظ سے مختلف ہیں، اس میں کہا: جب آپ نے اپنے ساتھ والوں کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا اور کھڑے ہوئے تو یہ لوگ الٹے پاؤں چلتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کھڑے ہوئے اور قبلے کی طرف پشت کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14164) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (1240)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1242
وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ فَحَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ:" كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا مَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، ثُمَّ سَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَقَامُوا فَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ الثَّانِيَةَ وَسَجَدُوا مَعَهُ سَرِيعًا كَأَسْرَعِ الْإِسْرَاعِ جَاهِدًا لَا يَأْلُونَ سِرَاعًا، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَارَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا".
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایٹریوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے، یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسری جماعت آ کر کھڑی ہوئی، اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا (ان سب نے بھی رکوع کیا)، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا، اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1242]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن سعد نے ہم سے بیان کیا تو کہا کہ مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ابن اسحاق سے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر بن زبیر نے بیان کیا ہے کہ عروہ بن زبیر نے ان سے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اس گروہ نے بھی تکبیر کہی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بنائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر دوسرا سجدہ کیا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور الٹے پاؤں چلتے ہوئے ان (یعنی دوسرے گروہ) کے پیچھے جا کھڑے ہوئے اور دوسرا گروہ آ گیا، وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے تکبیر کہی اور اپنے طور پر رکوع کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر دوسرا سجدہ کیا۔ پھر دونوں گروہ اکٹھے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو انہوں نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو سب نے سجدہ کیا۔ پھر پلٹ کر دوسرا سجدہ کیا، انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جلدی سے سجدہ کیا، نہایت جلدی، جلد بازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو ان سب نے بھی سلام پھیرا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری نماز میں شریک رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/275) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (1363 وسنده حسن)
قَالَ أَبو دَاود:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں