🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

137. ذكر الآي التي أنزل الله جل وعلا وكان سببها سعد بن أبي وقاص-
- ذکر وہ آیات جو اللہ جل وعلا نے نازل کیں اور ان کا سبب سعد بن ابی وقاص تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6992
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ:" أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ: أَصَبْتُ سَيْفًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ، قَالَ: ضَعْهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ، وَاجْعَلْنِي كَمَنْ لا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ: ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1، وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ طَعَامًا، فَدَعَانَا فَشَرِبْنَا الْخَمْرَ حَتَّى انْتَشَيْنَا، فَتَفَاخَرَتِ الأَنْصَارُ وَقُرَيْشٌ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: نَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ، وَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَحْنُ أَفْضَلُ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لَحْيَ جَزُورٍ فَضَرَبَ أَنْفَ سَعْدٍ، فَفَزَرَهُ فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ سورة المائدة آية 90، وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِالْبِرِّ، وَاللَّهِ لا أَطْعَمُ طَعَامًا، وَلا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ تَكْفُرَ، قَالَ: فَكَانُوا إِِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا سورة العنكبوت آية 8 الآيَةُ، قَالَ: وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ يَعُودُنِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: لا، قُلْتُ: فَبِثُلُثَيْهِ؟ قَالَ: لا، قُلْتُ: فَبِنِصْفِهِ؟ قَالَ: لا، قُلْتُ: فَبِثُلُثِهِ؟ قَالَ: فَسَكَتَ" .
مصعب اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں، مجھے تلوار ملی میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ نفلی طور پر عطا کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ میں نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے نفلی طور پر عطا کر دیں اور مجھے ایسے شخص کی مانند کر دیں جس کے پاس خوشحالی نہیں ہوتی (یعنی مجھے غریب سمجھ کے ہی یہ مجھے دیدیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں سے تم نے اسے لیا ہے وہاں رکھ دو، اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لوگ تم سے مال انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔
ایک مرتبہ ایک انصاری شخص نے کھانا تیار کیا اس نے ہمیں پلایا ہم نے شراب پی لی، یہاں تک کہ ہم آپس میں لڑ پڑے انصار اور قریش نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ انصار نے کہا: ہم تم سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ قریش نے کہا: ہم زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے گوشت کا ٹکڑا پکڑا اور اسے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر مار کر توڑ دیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی ناک ٹوٹ گئی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: بے شک شراب، جوا، بت اور پانسہ ناپاک ہیں یہ شیطان کے عمل سے تعلق رکھتے ہیں تم اس سے اجتناب کرو تاکہ فلاح حاصل کر لو۔
ایک مرتبہ ام سعد نے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا اللہ کی قسم! میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گی اور اس وقت تک کوئی مشروب نہیں پیوں گی جب تک میں مر نہیں جاتی یا تم (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا) انکار نہیں کر دیتے۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگ جب ان کو کچھ کھلانے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کا منہ زبردستی کھولتے تھے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں بیمار تھا آپ میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے سارے مال کے بارے میں وصیت کر دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے دریافت کیا: دو تہائی کے بارے میں کر دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: نصف کے بارے میں کر دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی کے بارے میں کر دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6992]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 56، 1295، 2742، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1628،وابن الجارود فى "المنتقى"، 1019، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2355، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4249، 5349، 6026، 6992، 7261، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1271، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2740، 2864، 3104، والترمذي فى (جامعه) برقم: 975، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2708، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 330، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1457» «رقم طبعة با وزير 6953»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2446): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں