صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
243. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر نفي عائشة رضي الله عنها معرفة النعمة عن أحد من المخلوقين وإضافتها بكليتها إلى خالق السماء وحده دون خلقه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس انکار کا کہ نعمت کا کوئی حصہ مخلوق سے ہے اور اسے مکمل طور پر خالق آسمان کی طرف منسوب کرنے کا
حدیث نمبر: 7103
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ رُومَانَ، وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ قِيلَ لَهَا: مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا؟ يَعْنِي عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ عَائِشَةَ إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَإِذَا هِيَ تَقُولُ: فَعَلَ اللَّهُ بِفُلانٍ كَذَا، فَقَالَتْ: لِمَ؟ قَالَتْ: لأَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَيُّ حَدِيثٍ؟ فَأَخْبَرْتُهَا، قَالَتْ: فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلا وَعَلَيْهَا حُمَّى نَافِضٌ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، قَالَتْ: فَقُلْنَا: حُمَّى أَخَذَتْهَا، قَالَ:" فَلَعَلَّهُ مِنْ أَجْلِ حَدِيثٍ تُحَدِّثَ بِهِ"، قَالَتْ: فَقَعَدَتْ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لا تُصَدِّقُونِي، وَلَئِنِ اعْتَذَرْتُ لا تَعْذِرُونِي، فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مِثْلُ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ: وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ، قَالَتْ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَا أَنْزَلَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: بِحَمْدِ اللَّهِ لا بِحَمْدِ أَحَدٍ .
مسروق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ تھیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) اس خاتون سے دریافت کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے ان کے یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بری ذمہ ہونے کے بارے میں کیا نازل کیا، تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں عائشہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اسی دوران ایک انصاری عورت ہمارے پاس آئی وہ یہ کہہ رہی تھی: اللہ تعالیٰ فلاں کے ساتھ اس طرح کرے (یعنی اس کو بددعا دے رہی تھی) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: تم نے یہ کیوں کہا: ہے، اس نے جواب دیا: اس کی وجہ یہ ہے، اس نے وہ بات کہی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: کون سی بات، تو میں نے عائشہ کو اس بارے میں بتایا، اس نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہے؟ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں، تو عائشہ گر پڑی اور اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی جب اسے ہوش آیا تو اسے انتہائی تیز بخار تھا۔ سیده ام رومان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے دریافت کیا: اسے کیا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کی: اسے بخار ہو گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید یہ اس بات کی وجہ سے ہوا ہے جو اس کے بارے میں کی جا رہی ہے۔ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو عائشہ بیٹھ گئی اس نے کہا: اللہ کی قسم اگر میں قسم اٹھا لوں (کہ میں بری ذمہ ہوں) تو آپ مجھے سچا قرار نہیں دیں گے اور اگر میں بری ذمہ ہونے کا اظہار کروں تو آپ میرا عذر قبول نہیں کریں گے میری اور آپ کی مثال اسی طرح ہے جو سیدنا یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی تھی۔ ”اللہ تعالیٰ سے ہی مدد لی جا سکتی ہے اس بارے میں جو تم بیان کر رہے ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل کرنا تھا نازل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ کی حمد بیان کروں گی کسی دوسرے کی حمد بیان نہیں کروں گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7103]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7059»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات