صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
259. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر حاطب بن أبي بلتعة حليف أبي سفيان-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر حاطب بن ابی بلتعہ کا جو ابو سفیان کا حلیف تھا
حدیث نمبر: 7119
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ السُّلَمِيَّ، وَكِلانَا فَارِسٌ، قَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً وَمَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، فَأْتُونِي بِهَا"، فَأَدْرَكْنَاهَا وَهِيَ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ؟ فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، قَالَ: فَأَنَخْنَا بَعِيرَهَا، وَفَتَّشْنَا رَحْلَهَا، فَقَالَ صَاحِبِي: مَا نَرَى مَعَهَا شَيْئًا، فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ عَلِمْتَ مَا كَذِبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لأَجُزَّنَّكِ بِالسَّيْفِ، فَلَمَّا رَأَتِ الْجِدَّ أَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا، وَعَلَيْهَا إِزَارٌ مِنْ صُوفٍ، فَأَخْرَجَتِ الْكِتَابَ، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَاطِبُ مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ؟"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بِي أَنْ لا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ، لا تَقُولُوا لَهُ إِلا خَيْرًا"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَدَعْنِي حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَو َلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ؟ مَا يُدْرِيكَ يَا عُمَرُ، لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ"، فَدَمَعَتْ عَيْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور ابومرثد سلمی کو بھیجا ہم دونوں گھوڑوں پر سوار تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور تم خاخ کے باغ میں پہنچو گے وہاں ایک عورت ہو گی، جس کے پاس ایک خط ہو گا وہ حاطب بن ابوبلتعہ کی طرف سے مشرکین کے نام لکھا گیا ہو گا تم اسے میرے پاس لے آنا (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم اس عورت تک پہنچ گئے وہ اپنے اونٹ پر سوار تھی اسی جگہ پر موجود تھی جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا میں نے کہا: وہ خط کہاں ہے، جو تمہارے پاس ہے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا لیا اور اس کے پالان کی تلاشی لی میرے ساتھی نے کہا: میرا خیال ہے اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے میں نے اس سے کہا: تم یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ غلط بیانی نہیں کی اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے (اے عورت) یا تو تم اسے نکال دو گی یا پھر میں تلوار سے تمہارے ٹکڑے کر دوں گا۔ جب اس نے سختی دیکھی تو اس نے تہبند کے ڈب کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے اونی تہبند باندھا ہوا تھا اس نے وہ خط نکالا میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس بنیاد پر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا نہ رہوں (یعنی میں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کو ترک کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا) بلکہ میں چاہتا تھا میرا ان لوگوں پر کوئی احسان ہو جائے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ میرے اہل خانہ اور میرے اموال کو محفوظ رکھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا: ہے تم اس کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کرو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس نے اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ خیانت کی ہے آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اہل بدر میں سے نہیں ہے؟ اے عمر! تمہیں کیا پتہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ ارشاد فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو جنت تمہارے لیے لازم ہو چکی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے انہوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7119]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7075»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (4777). تنبيه!! رقم (4777) = (4797) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح