صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
501. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار عن سؤال الرب جل وعلا عبده عن تركه الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ رب تعالیٰ قیامت میں اپنے بندے سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کرنے کے بارے میں سوال کرے گا
حدیث نمبر: 7368
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ وَكَانَ سَاكِنًا فِي بَنِي النَّجَّارِ نَهَارًا الْعَبْدِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَذْكُرُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ: مَا مَنَعَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حَجَّتَهُ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ، أَوْ فَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ، وَوَثِقْتُ بِكَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے حساب لے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے فرمائے گا: جب تم نے ایک منکر چیز کو دیکھا تھا، تو تمہیں کس چیز نے اس کا انکار کرنے سے روکا تھا؟ تو جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی دلیل سکھائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار! میں نے تجھ پر یقین کیا اور لوگوں سے الگ ہو گیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میں لوگوں سے الگ ہو گیا اور میں نے تجھ پر یقین کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7368]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7368، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4017، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11384» «رقم طبعة با وزير 7324»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (929).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي