🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب اسْتِحْبَابِ الْوِتْرِ
باب: وتر کے مستحب ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1416
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرآن والو! ۱؎ وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1416]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو۔ بلاشبہ اللہ عزوجل وتر (اکیلا) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 216، (453)، سنن النسائی/قیام اللیل 25 (1674)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 114 (1169)،(تحفة الأشراف:10135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/86، 98، 100، 107، 110، 115، 120، 143، 144، 148)، سنن الدارمی/الصلاة 209 (1621) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ابو اسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یہاں اہل قرآن سے مراد قرّاء و حفاظ کی جماعت ہے نہ کہ عام مسلمان، اس سے علماء نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ وتر واجب نہیں، اگر وتر واجب ہوتی تو یہ حکم عام ہوتا، اہل قرآن (یعنی قراء و حفاظ و علماء) کے ساتھ خاص نہ ہوتا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے «ليس لك ولا لأصحابك» جو فرمایا وہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، امام طیبی کے نزدیک وتر سے مراد تہجد ہے اسی لئے قراء سے خطاب فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (453) نسائي (1676) ابن ماجه (1169)
أبو إسحاق السبيعي مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (1/ 107) وأبي نعيم (حلية الأولياء 313/7) وغيرهما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ الْأَعْمَشِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے: ایک اعرابی نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1417]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی روایت کی ہے اور مزید یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک دیہاتی بولا: آپ کیا کہتے ہیں؟ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ حکم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 114 (1170)، (تحفة الأشراف:9627) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1170)
أبو عبيدة عن أبيه منقطع كما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَوِيُّ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، وَهِيَ الْوِتْرُ، فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ".
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1418]
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایک (مزید اضافی) نماز سے تمہاری مدد فرمائی ہے اور یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ نماز وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے طلوع فجر کے درمیان مقرر فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 215، الوتر 1 (452)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 114 (1168)، (تحفة الأشراف:3450)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 208 (1617) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن «هي خير لكم من حمر النعم» کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس ٹکڑے کے متابعات اور شواہد موجود نہیں ہیں، یعنی یہ حدیث خود ضعیف ہے، اس کے راوی عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں لیکن متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (452) ابن ماجه (1168) انظر (ص581)
وقال ابن حبان : ’’ إسناد منقطع و متن باطل‘‘ (كتاب الثقات 45/5)
وروي أحمد (7/6) بسند صحيح عن رسول اللّٰه ﷺ قال : ((إن اللّٰه زادكم صلاة ھي الوتر فصلوھا بين العشاء إلي صلاة الفجر))
تعديلات:
عبد اللّٰه راشد الزوفي لا يعرف سماعه من عبد اللّٰه بن أبي مرة الزوفي فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں