🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. شِدَّةُ الِاهْتِمَامِ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَالْعَصْرِ
فجر اور عصر کی نماز پر خاص تاکید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن بِشْر بن مَطَر، حدثنا وهب بن بَقيَّة. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا إسحاق بن شاهين؛ قالا: حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود عن أبي حَرْب، عن عبد الله بن فَضَالة، عن أبيه قال: عَلَّمَني رسول الله ﷺ، فكان فيما عَلَّمَني أن قال:"حافِظْ على الصَّلَوات الخَمْس" فقلت: هذه ساعاتٌ لي فيها أشغالٌ، فحدِّثني بأمرٍ جامعٍ إذا أنا فعلتُه أجزأَ عني، قال:"حافِظْ على العَصْرَينِ" - قال: وما كانت من لغتنا - قلت: وما العَصرانِ؟ قال:"صلاةٌ قبلَ طلوع الشمس، وصلاةٌ قبلَ غروبِها" (3) . أبو حرب بن أبي الأسود الدِّيلي تابعيٌّ كبير، عنده عن أكابر الصحابة لا يَقصُر سماعُه عن فَضَالة بن عبيد الليثي، فإنَّ هشيم بن بشير حافظ معروف بالحفظ، وخالد بن عبد الله الواسطي صاحبُ كتاب، وهذا في الجملة كما خرَّج مسلم في كتاب الإيمان (1) حديثَ شعبة عن عثمان بن عبد الله بن مَوْهَب، وبعده عن محمد بن عثمان عن أبيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 51 - وخولف هشيم رواه خالد بن عبد الله عن أبي حرب عن عبد الله بن فضالة عن أبيه قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم
سیدنا عبداللہ بن فضالہ اپنے والد (سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دین کی باتیں) سکھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو باتیں سکھائیں ان میں یہ بھی فرمایا: پانچوں نمازوں کی حفاظت کیا کرو، میں نے عرض کیا: یہ ایسے اوقات ہیں جن میں، میں مصروف ہوتا ہوں، لہٰذا مجھے کوئی ایسی جامع بات بتا دیجیے کہ اگر میں اسے کر لوں تو وہ میری طرف سے کافی ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عصروں (عصرین) کی حفاظت کیا کرو - راوی کہتے ہیں کہ یہ لفظ ہماری لغت میں نہیں تھا - چنانچہ میں نے پوچھا: یہ ’عصرین‘ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور ایک نماز سورج غروب ہونے سے پہلے (عصر)۔
ابو حرب بن ابی الاسود الدیلی ایک کبار تابعی ہیں، انہوں نے اکابر صحابہ سے روایت کی ہے اور ان کا سیدنا فضالہ بن عبید لیثی سے سماع بعید نہیں ہے، نیز ہشیم بن بشیر مشہور حافظِ حدیث ہیں اور خالد بن عبداللہ الواسطی صاحبِ کتاب (مستند) راوی ہیں، اور یہ مجموعی طور پر ویسے ہی ہے جیسے امام مسلم نے کتاب الایمان میں شعبہ عن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور اس کے بعد محمد بن عثمان عن ابیہ کے واسطے سے تخریج کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 51]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 52
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد. وأخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي؛ قالا: حدثنا محمد بن أبي السَّرِيِّ العَسقَلَاني، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ للإسلام صُوًى (2) ومَنارًا كمَنارِ الطريق" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري فقد روى عن محمد بن خلف العسقلاني (1) ، واحتجَّ بثور بن يزيد الشامي، فأما سماعُ خالد بن مَعْدان عن أبي هريرة فغير مُستبدَع، فقد حكى الوليد بن مسلم عن ثور بن يزيد عنه أنه قال: لقيتُ سبعةَ عشرَ رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ. ولعلَّ متوهِّمًا يَتوهَّمُ أنَّ هذا متنٌ شاذٌّ، فليَنظُر في الكتابين ليجدَ من المتون الشاذَّة (2) التي ليس لها إلّا إسناد واحد ما يُتعجَّب منه، ثم ليَقِسْ هذا عليها. حديث آخر بهذا الإسناد (3) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 52 - غير مستبدع لقي خالد أبا هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اسلام کے کچھ نمایاں نشانات اور مینار ہیں جیسے راستے کے نشانات (اور مینار) ہوتے ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے محمد بن خلف العسقلانی سے روایت کی ہے اور ثور بن یزید شامی سے احتجاج کیا ہے، رہا خالد بن معدان کا سیدنا ابوہریرہ سے سماع تو وہ بعید از قیاس نہیں ہے، کیونکہ ولید بن مسلم نے ثور بن یزید کے واسطے سے ان (خالد) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سترہ اصحاب سے ملاقات کی ہے۔ اور اگر کسی کے وہم میں یہ بات آئے کہ یہ متن شاذ ہے، تو وہ ان دونوں کتابوں (بخاری و مسلم) میں دیکھے جہاں اسے ایسے شاذ متون ملیں گے جن کی صرف ایک ہی سند ہے اور وہ باعثِ تعجب ہیں، پھر وہ اس حدیث کو بھی انہی پر قیاس کر لے۔ اسی سند کے ساتھ ایک اور حدیث درج ذیل ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 52]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 53
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا محمد بن أبي السَّرِيّ، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ثَوْر بن يزيد عن خالد بن مَعْدان، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"الإسلام أن تَعبُدَ اللهَ لا تُشْرِكُ به شيئًا، وتقيمَ الصلاةَ، وتُؤتيَ الزكاةَ، وتصومَ رمضان، وتحجَّ البيتَ، والأمرُ بالمعروف والنهيُ عن المنكر، وتسليمُك على أهلِك، فمن انتَقَصَ شيئًا منهنَّ فهو سهمٌ من الإسلام يَدَعُه، ومَن تركهنَّ كلَّهنَّ فقد وَلَّى الإسلامَ ظهرَه". هذا الحديث مثلُ الأول في الاستقامة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 53 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو، اور اپنے گھر والوں کو سلام کرو، پس جس نے ان میں سے کسی چیز میں کمی کی تو اس نے اسلام کا وہ حصہ چھوڑ دیا (جو اس کے ذمے تھا)، اور جس نے ان سب کو چھوڑ دیا اس نے اسلام کی طرف اپنی پیٹھ پھیر لی۔
یہ حدیث ثقاہت و درستگی میں پہلی حدیث کی طرح ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 53]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں