المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. تَفْسِيرُ آيَةِ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ)
اس آیت کی تفسیر: جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا
حدیث نمبر: 75
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البصري بمِصر، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، عن كُلْثوم بن جَبْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال:"أَخَذَ اللهُ الميثاقَ من ظَهْر آدم، فأَخرج من صُلْبه ذُرِّيةً ذَرَأَها فنَثَرَهم نَثْرًا بين يديه كالذَّرِّ، ثم كلَّمهم، فقال: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [الأعراف] " (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بكُلْثوم بن جَبْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 75 - احتج مسلم بكلثوم
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بكُلْثوم بن جَبْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 75 - احتج مسلم بكلثوم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کی پشت سے (وادی نعمان میں) عہد و میثاق لیا، پس ان کی صلب سے ان کی وہ تمام نسل نکالی جو وہ پیدا کرنے والا تھا اور انہیں اپنے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلا دیا، پھر ان سے کلام کرتے ہوئے فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (172) أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! ہم گواہی دیتے ہیں، تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے، یا یہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد کی نسل تھے، کیا تو ہمیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو باطل پرست تھے؟“ [سورة الأعراف: 172-173] “
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے کلثوم بن جبر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 75]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے کلثوم بن جبر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 75]
حدیث نمبر: 76
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا خَلَف بن خَليفة، عن حُميد الأعرج، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"يومَ كَلَّمَ اللهُ موسى كان عليه جُبَّةُ صوفٍ، وسراويلُ صوفٍ، وكُمَّةُ صوفٍ، وكِساءُ صوفٍ، ونَعلانِ من جلدِ حمارٍ غيرِ ذكيٍّ" (1) . قد اتفقا جميعًا على الاحتجاج بحديث سعيد بن منصور، وحُميدٌ هذا ليس بابن قيس الأعرج، قال البخاري في"التاريخ": حميد بن علي الأعرج الكوفي مُنكَر الحديث، وعبد الله بن الحارث النَّجْراني مُحتَجٌّ به (2) ، واحتجَّ مسلم وحده بخلف بن خليفة، و
هذا حديث كبير في التصوف والتكليم (3) ، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث إسماعيل بن عيَّاش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 76 - حميد هذا ليس بابن قيس
هذا حديث كبير في التصوف والتكليم (3) ، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث إسماعيل بن عيَّاش:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 76 - حميد هذا ليس بابن قيس
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا، اس وقت وہ اون کا جبہ، اون کی شلوار، اون کی ٹوپی، اون کی چادر پہنے ہوئے تھے اور ان کے جوتے گدھے کی ایسی کھال کے تھے جو (شرعی طریقے سے) دباغت شدہ نہیں تھی۔“
امام بخاری و مسلم دونوں نے سعید بن منصور کی حدیث سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہاں حمید نامی راوی حمید بن قیس الاعرج نہیں ہیں بلکہ امام بخاری نے ”التاريخ“ میں کہا ہے کہ حمید بن علی الاعرج الکوفی منکر الحدیث ہے، جبکہ عبداللہ بن حارث نجرانی سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور امام مسلم نے اکیلے خلف بن خلیفہ سے احتجاج کیا ہے، اور یہ تصوف اور کلامِ الٰہی کے موضوع پر ایک اہم حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے لیے اسماعیل بن عیاش کی حدیث سے ایک شاہد بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 76]
امام بخاری و مسلم دونوں نے سعید بن منصور کی حدیث سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہاں حمید نامی راوی حمید بن قیس الاعرج نہیں ہیں بلکہ امام بخاری نے ”التاريخ“ میں کہا ہے کہ حمید بن علی الاعرج الکوفی منکر الحدیث ہے، جبکہ عبداللہ بن حارث نجرانی سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور امام مسلم نے اکیلے خلف بن خلیفہ سے احتجاج کیا ہے، اور یہ تصوف اور کلامِ الٰہی کے موضوع پر ایک اہم حدیث ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کے لیے اسماعیل بن عیاش کی حدیث سے ایک شاہد بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 76]