المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. اتَّقُوا دَعَوَاتِ الْمَظْلُومِ
مظلوم کی دعا سے بچو
حدیث نمبر: 82
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر المقدَّمي، حدثنا فُضَيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عُقْبة، حدثني إسحاق بن يحيى، عن عُبادة بن الصامت قال: قال رسول الله ﷺ:"أنا سيِّدُ الناس يومَ القيامة ولا فَخْر، ما من أحدٍ إلَّا وهو تحت لِوائي يومَ القيامة ينتظرُ الفَرَج، وإنَّ معي لواءَ الحمد، أنا أَمشي ويمشي الناسُ معي حتى آتيَ بابَ الجنة فأَستفتحَ فيقال: مَن هذا؟ فأقول: محمَّدٌ، فيقال: مرحبًا بمحمَّدٍ، فإذا رأيتُ ربِّي خَرَرتُ له ساجدًا أنظُرُ إليه" (1) .
هذا حديث كبير في الصفات والرُّؤية، صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 82 - على شرطهما ولم يخرجاه
هذا حديث كبير في الصفات والرُّؤية، صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 82 - على شرطهما ولم يخرجاه
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں (بلکہ حقیقت کا بیان ہے)، قیامت کے دن کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو تنگی سے چھٹکارے کی امید میں میرے جھنڈے کے نیچے نہ ہو، اور میرے پاس حمد کا جھنڈا (لواء الحمد) ہوگا، میں چلوں گا اور لوگ میرے ساتھ چلیں گے یہاں تک کہ میں جنت کے دروازے پر آکر اسے کھلواؤں گا، پوچھا جائے گا: یہ کون ہے؟ میں کہوں گا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )، تو کہا جائے گا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خوش آمدید، پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو اس کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اور اس کا دیدار کروں گا۔“
یہ (اللہ کی) صفات اور دیدارِ الٰہی کے بارے میں ایک عظیم حدیث ہے، جو شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 82]
یہ (اللہ کی) صفات اور دیدارِ الٰہی کے بارے میں ایک عظیم حدیث ہے، جو شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن يحيى - وهو ابن الوليد بن عبادة بن الصامت، ثم إنه لم يدرك جدَّ أبيه عبادة، فهو منقطع، كما أنَّ فضيل بن سليمان ليس بذاك القوي-» [ترقيم الرساله 82] [ترقيم الشركة 82] [ترقيم العلميه 82]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن يحيى - وهو ابن الوليد بن عبادة بن الصامت