المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
73. مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ
کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے نرم ہو
حدیث نمبر: 174
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا أبو المثنى، حدثنا القعنبي، حدثنا يزيد بن زُريع. وأخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع، عن خالدٍ الحذَّاء، عن أبي قلابة، عن أبي قلابة، عن عائشة قالت: قال: رسول الله ﷺ:"من أكمل المؤمنين إيمانًا أحسَنُهم خُلُقًا، وألطَفُهم بأهله" (2) . رواةُ هذا الحديث عن آخرهم ثقاتٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 173 - فيه انقطاع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 173 - فيه انقطاع
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ ہے جو ان میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے بہتر ہو اور اپنے اہل و عیال کے لیے سب سے زیادہ نرم دل و مہربان ہو۔“
اس حدیث کے تمام راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 174]
اس حدیث کے تمام راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 174]
حدیث نمبر: 175
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن سلمة بن كُهيل، عن عمران بن الحَكَم (3) السُّلَمي، عن ابن عباس قال: قالت قريشٌ للنبي ﷺ: ادعُ ربَّك أن يجعل لنا الصَّفَا ذهبًا ونؤمنَ بك، قال:"أتَفعَلونَ؟" قالوا: نعم، فدَعَا، فأتاه جبريل فقال:"إنَّ الله يقرأُ عليك السلام ويقول: إن شئتَ أصبحَ الصَّفَا ذهبًا، فمن كَفَرَ بعد ذلك عذَّبْتُه عذابًا لا أعذِّبُه أحدًا من العالمين، وإن شئتَ فتحتُ لهم أبواب التوبة والرَّحمة" قال:"بل باب التوبةِ والرَّحمة" (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، پس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا: ”اللہ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: اگر آپ چاہیں تو صفا پہاڑ سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد جس نے کفر کیا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہوگا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ توبہ اور رحمت کا دروازہ (کھولنا بہتر ہے)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 175]
حدیث نمبر: 176
أخبرناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا أحمد بن محمد ابن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم ومحمد بن كثير: قالا: حدثنا سفيان، عن سَلَمة ابن كُهيل، فذكره بإسناده نحوه (2) .
هذا حديث صحيح محفوظ من حديث الثَّوري عن سلمة بن كُهيل، وعِمران ابن الحَكَم السُّلَمي تابعيٌّ كبير محتجٌّ به، وإنما أهملا هذا الحديث - والله أعلم - لخلافٍ وقع من يحيى بن سلمة بن كهيل في إسناده، ويحيى كثيرُ الوهم على أبيه.
هذا حديث صحيح محفوظ من حديث الثَّوري عن سلمة بن كُهيل، وعِمران ابن الحَكَم السُّلَمي تابعيٌّ كبير محتجٌّ به، وإنما أهملا هذا الحديث - والله أعلم - لخلافٍ وقع من يحيى بن سلمة بن كهيل في إسناده، ويحيى كثيرُ الوهم على أبيه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توبہ اور رحمت کے دروازے کو صفا کے سونا بننے پر ترجیح دی۔
یہ امام ثوری کی سلمہ بن کہیل سے روایت کردہ صحیح اور محفوظ حدیث ہے، اور عمران بن الحکم السلمی کبار تابعین میں سے ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اس حدیث کو صرف اس لیے چھوڑا ہے - واللہ اعلم - کیونکہ یحییٰ بن سلمہ بن کہیل سے اس کی سند میں اختلاف ہوا ہے، اور یحییٰ اپنے والد سے روایت کرنے میں کثیر الوہم ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 176]
یہ امام ثوری کی سلمہ بن کہیل سے روایت کردہ صحیح اور محفوظ حدیث ہے، اور عمران بن الحکم السلمی کبار تابعین میں سے ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے، اور ان دونوں (بخاری و مسلم) نے اس حدیث کو صرف اس لیے چھوڑا ہے - واللہ اعلم - کیونکہ یحییٰ بن سلمہ بن کہیل سے اس کی سند میں اختلاف ہوا ہے، اور یحییٰ اپنے والد سے روایت کرنے میں کثیر الوہم ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 176]
حدیث نمبر: 177
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عَمْرَويهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الأحوص بن جوَّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، عن أبيه، عن عمران بن الجَعْد، عن ابن عباس: أنَّ قريشًا قالت: يا محمدُ، ادعُ ربَّك أن يجعل الصَّفا ذهبًا ونؤمن لك، فقال رسول الله ﷺ:"أتفعلون؟" قالوا: نعم، فأتى جبريلُ النبي ﷺ فقال:"استوثق" ثم أتي جبريلُ فقال:"يا محمدُ، إِنَّ الله قد أعطاك ما سألت، إن شئتَ أصبحَ لك الصَّفا ذهبًا، ومن كَفَرَ بعد ذلك عذَّبتُه عذابًا لا أعذَّبه أحدًا من العالمين، وإن شئتَ فتحتُ لهم باب التوبة والإنابة" فقال رسول الله ﷺ:"بابُ التوبة والرَّحمة أحبُّ إليَّ" (1) . هذا الوَهْمُ لا يُوهِنُ حديث الثوري، فإني لا أعرف عمران بن الجعد في التابعين، إنما روى إسماعيلُ بن أبي خالد عن عمران بن أبي الجعد، فأمّا عمران بن الجعد فإنه من أتباع التابعين.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے کہا: اے محمد! اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ صفا کو سونا بنا دے تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم ایسا کرو گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تب جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”ان سے پختہ عہد لے لیں“، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”اے محمد! اللہ نے آپ کو وہ عطا کر دیا ہے جو آپ نے مانگا ہے، اگر آپ چاہیں تو صفا آپ کے لیے سونا بن جائے گا، لیکن اس کے بعد جس نے کفر کیا اسے میں ایسا عذاب دوں گا جو کائنات میں کسی کو نہیں دیا، اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رجوع کا دروازہ کھول دوں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”توبہ اور رحمت کا دروازہ مجھے زیادہ پسند ہے۔“
یہ وہم (نام کی تبدیلی) امام ثوری کی حدیث کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ میں تابعین میں عمران بن جعد نامی کسی شخص کو نہیں جانتا، جبکہ اسماعیل بن ابی خالد نے عمران بن ابی جعد سے روایت کی ہے، رہا عمران بن جعد تو وہ اتباعِ تابعین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 177]
یہ وہم (نام کی تبدیلی) امام ثوری کی حدیث کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ میں تابعین میں عمران بن جعد نامی کسی شخص کو نہیں جانتا، جبکہ اسماعیل بن ابی خالد نے عمران بن ابی جعد سے روایت کی ہے، رہا عمران بن جعد تو وہ اتباعِ تابعین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 177]
حدیث نمبر: 178
أخبرنا دَعلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا محمد بن علي بن زيد المكي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن وعبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطَّلب، عن المطَّلب، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن عَمِلَ سيئةً فكَرِهَها حين يعملُ، وعَمِلَ حسنةً فسُرَّ بها، فهو مؤمنٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وقد ذكرتُ فيما تقدَّم (3) من خطبة عمر بالجابِيَة وأنهما لم يخرجاه، وهذا بغير ذلك اللفظ أيضًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 177 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، وقد ذكرتُ فيما تقدَّم (3) من خطبة عمر بالجابِيَة وأنهما لم يخرجاه، وهذا بغير ذلك اللفظ أيضًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 177 - على شرطهما
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی برائی کی اور اسے کرتے وقت اسے برا محسوس کیا، اور کوئی نیکی کی اور اس سے اسے خوشی ہوئی، تو وہ مومن ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور میں پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جابیہ والے خطبے میں ذکر کر چکا ہوں کہ ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ (روایت) بھی ان الفاظ کے علاوہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 178]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، اور میں پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جابیہ والے خطبے میں ذکر کر چکا ہوں کہ ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ (روایت) بھی ان الفاظ کے علاوہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 178]