المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
82. تُحْشَرُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ
یہ امت تین قسم کے لوگوں پر جمع کی جائے گی
حدیث نمبر: 194
أخبرنا أبو الحُسين (1) أحمد بن عثمان الأَدَمي ببغداد، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا حجَّاج بن نُصَير، حدثنا شدَّاد بن سعيد. وأخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثنا عُبيد الله بن عمر القواريري، حدثنا حَرَمِيُّ بن عُمَارة، حدثنا شدَّاد بن سعيد أبو طلحة الرَّاسبي، عن غَيْلان بن جرير، عن أبي بُردة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"تُحشَرُ هذه الأُمة على ثلاثة أصناف: صنفٍ يدخلون الجنة بغير حساب، وصنفٍ يُحاسبون حسابًا يسيرًا ثم يدخلون الجنة، وصنفٍ يجيئون على ظُهورهم أمثالُ الجبال الراسياتِ ذنوبًا، فيَسأَلُ الله عنهم -وهو أعلمُ بهم- فيقول: ما هؤلاء؟ فيقولون: هؤلاءِ عَبيدٌ من عبادِك، فيقول: حُطُّوها عنهم واجعَلُوها على اليهود والنصارى، وأدخِلوهم برحمتي الجنة" (2)
هذا حديث صحيح من حديث حَرَميِّ بن عُمارة على شرط الشيخين، ولم يخرجاه، فأما حجَّاج بن نُصَير فإني قَرَنتُه إلى حَرَمىٍّ لأني عَلَوتُ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 193 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح من حديث حَرَميِّ بن عُمارة على شرط الشيخين، ولم يخرجاه، فأما حجَّاج بن نُصَير فإني قَرَنتُه إلى حَرَمىٍّ لأني عَلَوتُ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 193 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ امت (قیامت کے دن) تین گروہوں میں اٹھائی جائے گی: ایک گروہ وہ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا، دوسرا گروہ وہ جن کا حساب آسان ہوگا پھر وہ جنت میں جائیں گے، اور تیسرا گروہ وہ جو اپنی پشتوں پر پہاڑوں جیسے گناہ لادے ہوئے آئیں گے، اللہ ان کے بارے میں پوچھے گا - جبکہ وہ خود ان سے بہتر جانتا ہے - کہ یہ کون ہیں؟ فرشتے کہیں گے: یہ تیرے بندوں میں سے تیرے گناہگار بندے ہیں، اللہ فرمائے گا: ان کے گناہ ان سے اتار دو اور انہیں یہودیوں اور عیسائیوں پر ڈال دو، اور انہیں میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو“۔
یہ حدیث حرمی بن عمارہ کی روایت سے شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، رہی بات حجاج بن نصیر کی تو میں نے انہیں حرمی کے ساتھ اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ سند عالی ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 194]
یہ حدیث حرمی بن عمارہ کی روایت سے شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، رہی بات حجاج بن نصیر کی تو میں نے انہیں حرمی کے ساتھ اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ سند عالی ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 194]