المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
84. لَا يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا
اللہ تم سے اکتاتا نہیں جب تک تم خود اکتا نہ جاؤ
حدیث نمبر: 196
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد قال: قُرِئَ على محمد بن الهيثم القاضي وأنا أسمع: حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عُقبة بن عامر الجُهَني: أنَّ رجلًا أتى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، أحدُنا يُذنِبُ، قال: يُكتَبُ عليه، قال: ثم يستغفر منه ويتوب، قال:"يُغفَرُ له ويُتابُ عليه"، قال: فيعودُ فيُذنب، قال:"يُكتَبُ عليه"، قال: ثم يستغفر منه ويتوب، قال:"يُغفَرُ له ويُتابُ عليه"، قال: فيعودُ فيُذنب، قال:"يُكتب عليه"، قال: ثم يستغفر منه ويتوب، قال:"يُغفَرُ له ويُتابُ عليه (2) ، ولا يَمَلُّ الله حتى تَمَلُّوا" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 195 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 195 - على شرط البخاري
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی گناہ کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے“، اس نے کہا: پھر وہ استغفار اور توبہ کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بخش دیا جاتا ہے اور اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے“، اس نے کہا: وہ پھر گناہ کر لیتا ہے، فرمایا: ”لکھ لیا جاتا ہے“، اس نے کہا: وہ پھر توبہ و استغفار کرتا ہے، فرمایا: ”اسے بخش دیا جاتا ہے اور توبہ قبول ہوتی ہے، اللہ (معاف کرتے ہوئے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم (توبہ کرتے کرتے) خود تھک جاؤ۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 196]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 196]
حدیث نمبر: 197
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، عن سفيان، عن الأعمش، عن أبي الضُّحى، عن مسروق، عن عبد الله قال: الكبائرُ من أول سورة النساء إلى ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ﴾ [النساء: 31] ، من أول السورة إلى ثلاثين آيةً (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وَجَبَ إخراجه على ما شَرَطتُ في تفسير الصحابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 196 - على شرطهما وهو تفسير صحابي
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وَجَبَ إخراجه على ما شَرَطتُ في تفسير الصحابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 196 - على شرطهما وهو تفسير صحابي
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”کبیرہ گناہ سورہ نساء کے آغاز سے لے کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ﴾ [النساء: 31] تک کی تیس آیات میں مذکور ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور میرے صحابہ کی تفاسیر کے متعلق بیان کردہ اصول کے مطابق اس کی تخریج واجب تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 197]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور میرے صحابہ کی تفاسیر کے متعلق بیان کردہ اصول کے مطابق اس کی تخریج واجب تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 197]