🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

86. أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَرْجَى؟
قرآن کی کون سی آیت سب سے زیادہ امید دلانے والی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا بشر بن حُجْر السَّامِي (1) ، حدثنا عبد العزيز بن أبي سَلَمة، عن محمد بن المنكدر قال: التقى عبدُ الله بن عباس وعبد الله بن عمرو بن العاص، فقال له عبد الله بن عباس: أيُّ آيةٍ في كتاب الله أَرجى عندك؟ قال عبد الله بن عمرو: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [الزمر:53] ، فقال: لكن قول إبراهيم: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ [البقرة: 260] ، هذا لما في الصُّدور ويُوَسوسُ الشيطانُ، فَرَضِيَ اللهُ من قول إبراهيم بقوله: ﴿أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى﴾ [البقرة: 260] (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 198 - فيه انقطاع
سیدنا محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کی ملاقات ہوئی، تو ابن عباس نے ان سے پوچھا: آپ کے نزدیک کتاب اللہ کی سب سے زیادہ امید افزا آیت کون سی ہے؟ عبداللہ بن عمرو نے کہا: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو [الزمر: 53] ، تو ابن عباس نے فرمایا: لیکن میرے نزدیک (سب سے زیادہ امید افزا) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول ہے: ﴿رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي﴾ اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟ فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں؟ عرض کیا: کیوں نہیں! لیکن اس لیے (پوچھ رہا ہوں) تاکہ میرے دل کو اطمینان ہو جائے [البقرة: 260] ، پس اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے جواب «بَلَى» (کیوں نہیں!) کو پسند فرمایا (اور یہ ان وسوسوں کا علاج ہے جو شیطان دلوں میں ڈالتا ہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 199]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں