المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
99. لِلْأَنْبِيَاءِ مَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ
انبیاء کے لیے سونے کے منبر ہوں گے۔
حدیث نمبر: 221
حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، حدثنا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم الرازيُّ. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ إملاءً، حدثنا إبراهيم بن عبد الله بن أيوب المُخرِّمي. وأخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، قالوا: حدثنا سعيد بن محمد الجَرْمي، حدثنا عبد الواحد بن واصل، حدثنا محمد بن ثابت البُناني، عن عبيد الله بن عبد الله بن الحارث بن نَوفَل، عن أبيه، عن عبد الله بن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"للأنبياء منابرُ من ذهبٍ" قال:"فيجلسون عليها ويبقى مِنبَري لا أجلسُ عليه -أو لا أقعدُ عليه- قائمًا بين يَدَيْ ربي مَخافة أن يَبعَثَ بي إلى الجنة وتبقى أُمتي من بعدي، فأقول: يا ربِّ، أُمَّتِي أُمَّتي، فيقول الله ﷿: يا محمدُ، ما تريدُ أن أصنَعَ بِأُمُّتِك؟ فأقول: يا ربِّ، عَجِّلْ حسابهم، فيُدعى بهم فيُحاسبون، فمنهم من يدخلُ الجنةَ برحمة الله، ومنهم من يدخل الجنة بشفاعتي، فما أزالُ أشفَعُ حتى أُعطَى صِكَاكًا برجالٍ قد بُعِثَ بهم إلى النار، و [يأتي] مالكٌ (1) خازنُ النار، فيقول: يا محمدُ، ما تركت للنار لغَضَبِ ربّك في أمَّتِك من بقيَّةٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يحتجَّا بمحمد بن ثابت البُنَاني، وهو قليل الحديث يجمع حديثه، والحديث غريبٌ في أخبار الشفاعة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 220 - الحديث منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ الشيخين لم يحتجَّا بمحمد بن ثابت البُنَاني، وهو قليل الحديث يجمع حديثه، والحديث غريبٌ في أخبار الشفاعة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 220 - الحديث منكر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام انبیاء کے لیے سونے کے منبر ہوں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ان پر تشریف فرما ہوں گے لیکن میرا منبر (خالی) رہے گا، میں اس پر نہیں بیٹھوں گا (یا فرمایا: میں اس پر نہیں بیٹھوں گا) بلکہ اپنے رب کے حضور کھڑا رہوں گا، اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ مجھے تو جنت میں بھیج دے اور میری امت میرے پیچھے رہ جائے۔ پس میں عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت، میری امت! تو اللہ عزوجل فرمائے گا: اے محمد! آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں آپ کی امت کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ میں عرض کروں گا: اے رب! ان کا حساب جلد فرما دے۔ پس انہیں بلایا جائے گا اور ان کا حساب ہوگا، ان میں سے کچھ اللہ کی رحمت سے جنت میں جائیں گے اور کچھ میری شفاعت سے، اور میں مسلسل شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے ان لوگوں کے (خلاصی کے) پروانے بھی دے دیے جائیں گے جنہیں جہنم کی طرف بھیجا جا چکا ہوگا۔ اس وقت جہنم کا داروغہ مالک کہے گا: اے محمد! آپ نے اپنی امت میں سے اپنے رب کے غضب کے لیے جہنم میں کوئی باقی نہیں چھوڑا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، البتہ شیخین نے محمد بن ثابت البنانی سے استدلال نہیں کیا، ان کی مروی روایات کم ہیں لیکن وہ جمع کی جاتی ہیں، اور شفاعت کی روایات میں یہ حدیث غریب ہے، اور ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 221]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، البتہ شیخین نے محمد بن ثابت البنانی سے استدلال نہیں کیا، ان کی مروی روایات کم ہیں لیکن وہ جمع کی جاتی ہیں، اور شفاعت کی روایات میں یہ حدیث غریب ہے، اور ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 221]