المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
104. شَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ
میری شفاعت اس کے لیے ہے جو اخلاص سے“لا إله إلا الله”کہے، اس کا دل اور زبان ایک ہوں۔
حدیث نمبر: 234
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سالم بن أبي سالم، عن معاوية بن مُعتِّب، عن أبي هريرة أنه سمعه يقول: سألتُ رسولَ الله ﷺ: ماذا ردَّ إليك ربُّك في الشفاعة؟ فقال:"والذي نفسي بيده، لقد ظننتُ أنك أولُ من يسألُني عن ذلك؛ لِمَا رأيتُ من حِرْصِك على العلم، والذي نفسي بيده لَمَا يُهِمُّني من انقصافِهم على باب الجنة، أهمُّ عندي من تمام شفاعتي، وشفاعتي لمن شَهِدَ أن لا إله إلّا الله مخلِصًا، يُصدِّقُ قلبُه لسانَه، ولسانُه قلبَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ معاوية بن مُعتِّب مِصْري من التابعين. وقد خرَّج البخاري (2) حديث عمرو بن أبي عمرو مولى المطَّلِب، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة قال: قلت: يا رسول الله، مَن أسعدُ الناسِ بشفاعتك؟ الحديث، بغير هذا اللفظ والمعنى قريبٌ منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 233 - صحيح الإسناد
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ معاوية بن مُعتِّب مِصْري من التابعين. وقد خرَّج البخاري (2) حديث عمرو بن أبي عمرو مولى المطَّلِب، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة قال: قلت: يا رسول الله، مَن أسعدُ الناسِ بشفاعتك؟ الحديث، بغير هذا اللفظ والمعنى قريبٌ منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 233 - صحيح الإسناد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے رب نے شفاعت کے بارے میں آپ کو کیا جواب عطا فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میرا یہ گمان تھا کہ تم ہی سب سے پہلے مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے، کیونکہ میں نے علم کے حصول کے لیے تمہارا حرص و شوق دیکھ لیا تھا؛ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں کا جنت کے دروازے پر (کثرت اور ہجوم کی وجہ سے) ٹوٹ پڑنا مجھے اپنی مکمل شفاعت سے بھی زیادہ اہمیت والا محسوس ہوتا ہے، اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جس نے سچے دل سے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس حال میں کہ اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور معاویہ بن معتب مصری تابعین میں سے ہیں۔ امام بخاری نے اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو (مولیٰ مطلب) کے واسطے سے نقل کیا ہے جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت مند کون ہوگا، اگرچہ اس کے الفاظ مختلف ہیں لیکن معنی اس کے قریب ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 234]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور معاویہ بن معتب مصری تابعین میں سے ہیں۔ امام بخاری نے اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو (مولیٰ مطلب) کے واسطے سے نقل کیا ہے جس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت مند کون ہوگا، اگرچہ اس کے الفاظ مختلف ہیں لیکن معنی اس کے قریب ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 234]