المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
111. ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الْعَاقُّ بوَالِدَيْهِ، وَالدَّيُّوثُ، وَرَجِلَةُ النِّسَاءِ
تین لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے: والدین کا نافرمان، بے غیرت مرد، اور مردانہ صفات اختیار کرنے والی عورتیں۔
حدیث نمبر: 245
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر بن أبي أُوَيس، عن سليمان بن بلال، عن عبد الله بن يَسَار الأعرج، أنه سمع سالمَ بن عبد الله بن عمر يحدِّث عن أبيه، عن النبي ﷺ أنه قال:"ثلاثةٌ لا يَدخُلون الجنةَ: العاقُّ بوالدَيهِ، والدَّيُّوثُ، ورَجِلَةُ النساءِ" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 244 - صحيح الإسناد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 244 - صحيح الإسناد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے: اپنے والدین کی نافرمانی کرنے والا، دیوث (وہ شخص جو اپنے گھر والوں میں بے حیائی دیکھ کر خاموش رہے اور غیرت نہ کھائے) اور وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 245]
حدیث نمبر: 246
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا ابن أبي أُويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن عبد الله بن يَسَار الأعرج، أنه سمع سالمَ بن عبد الله يحدِّث عن أبيه، عن عمر بن الخطاب: أنه كان يقول: قال رسول الله ﷺ:"ثلاثةٌ لا يدخلونَ الجنَّةَ: العاقُّ بوالدَيهِ، والدَّيُّوثُ، ورَجِلَةُ النساءِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والقلبُ إلى رواية أيوب بن سليمان أميَلُ حيث لم يَذكُرْ في إسناده عمرَ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والقلبُ إلى رواية أيوب بن سليمان أميَلُ حيث لم يَذكُرْ في إسناده عمرَ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے: والدین کا نافرمانی کرنے والا، دیوث، اور مردوں کی وضع قطع اپنانے والی عورت۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا دل ایوب بن سلیمان کی روایت کی طرف زیادہ مائل ہے جس میں انہوں نے سند میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 246]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا دل ایوب بن سلیمان کی روایت کی طرف زیادہ مائل ہے جس میں انہوں نے سند میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 246]