المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
116. يَتْبَعُ الْمُؤْمِنَ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلَاثَةٌ
مؤمن کے مرنے کے بعد تین چیزیں اس کے پیچھے جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 251
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيانُ، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عَمْرو بن حَزْم، سمع أنسَ بن مالك يَبلُغُ به النبيَّ ﷺ قال:"يَتبَعُ المؤمنَ بعد موتِه ثلاثةٌ: أهلُه، ومالُه، وعملُه، فيَرجِعُ اثنانِ ويبقى واحدٌ (2) ، يَرجِعُ أهلُه ومالُه، ويبقى عملُه" (3) . وقد تابع عمرانُ القطَّانُ الحجَّاجَ فساق الحديثَ بطوله:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے (جنازے کے) پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کے اعمال؛ پھر دو واپس لوٹ آتے ہیں اور ایک (قبر میں) باقی رہ جاتا ہے، اس کے گھر والے اور مال واپس آ جاتے ہیں جبکہ اس کے اعمال باقی رہ جاتے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ابن أبي عمر: هو محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، وسفيان: هو ابن عيينة» [ترقيم الرساله 251] [ترقيم الشركة 249]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 252
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا عِمرانُ القطَّانُ، عن قَتَادة، عن أنس، عن النبي ﷺ قال:"ما مِن عبدٍ إلّا وله ثلاثةُ أخلَّاءَ" فذكر الحديثَ بطوله، نحو حديث إبراهيم بن طَهْمان (1) . وله شاهدٌ آخرُ على شرط مسلم:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جس کے تین گہرے دوست نہ ہوں“ پھر انہوں نے سابقہ حدیث کی طرح مکمل طویل روایت ذکر فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمران بن داوَر القطّان» [ترقيم الرساله 252] [ترقيم الشركة 250]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 253
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا حمَّاد، عن سِمَاك، عن النُّعمان بن بَشِير، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَثَلُ المؤمنِ ومَثَلُ الأجَلِ مَثَلُ رجلٍ له ثلاثةُ أخلَّاءَ، قال له مالُه: أنا مالُك، خُذْ مني ما شئتَ ودَعْ ما شئت، وقال الآخر: أنا معك أحمِلُك وأضَعُك، فإذا متَّ تركتُك؛ قال: هذا عَشِيرَتُه، وقال الثالث: أنا معك أدخُلُ معك وأخرجُ معك، متَّ أو حَيِيتَ؛ قال: هذا عَمَلُه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 251 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 251 - على شرط مسلم
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن اور اس کی موت کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے تین گہرے دوست ہوں، اس کا مال اس سے کہتا ہے: میں تمہارا مال ہوں، مجھ میں سے جو چاہو لے لو اور جو چاہو چھوڑ دو؛ دوسرا (دوست) کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں، تمہیں (سواری پر) اٹھائے رکھوں گا اور (منزل پر) اتاروں گا لیکن جب تم مر جاؤ گے تو تمہیں چھوڑ دوں گا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) یہ اس کا قبیلہ اور خاندان ہے؛ اور تیسرا دوست کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں، تمہارے ساتھ ہی (قبر میں) داخل ہوں گا اور تمہارے ساتھ ہی نکلوں گا، خواہ تم مر جاؤ یا زندہ رہو، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) یہ انسان کا عمل ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 253]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب» [ترقيم الرساله 253] [ترقيم الشركة 251] [ترقيم العلميه 251]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره