🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. الْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ
علم کو چار اشخاص سے حاصل کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 338
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح. وحدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه - واللفظ له - حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، أخبرني رَبيعة بن يزيد، عن أبي إدريسَ الخَوْلاني، عن يزيد بن عَمِيرة: أنَّ معاذ بن جبل لما حَضَرَتْه الوفاةُ قالوا: يا أبا عبد الرحمن، أَوصِنا؟ قال: أجلِسوني، ثم قال: إنَّ العلم والإيمان مكانَهما، مَن التمَسَهما وَجَدَهما - قال ذلك ثلاثَ مرات - فالتمِسُوا العلمَ عند أربعةِ رَهْطٍ: عند عُوَيمِرٍ أبي الدَّرداء، وعند سلمان الفارسي، وعند عبد الله بن سَلَام (2) ، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنَّة" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ويزيد بن عَمِيرة السَّكْسَكي صاحب (1) معاذ بن جبل. وقد شَهِدَ مكحولٌ الدمشقي ليزيد بذلك، وهو مما يُستشهَد لمكحول عن يزيد متابعةً لأبي إدريس الخَوْلاني:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 334 - على شرطهما
یزید بن عمیرہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن! ہمیں کچھ وصیت فرمائیے؟ انہوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، پھر فرمایا: علم اور ایمان اپنی جگہ پر موجود ہیں، جو انہیں تلاش کرے گا وہ انہیں پا لے گا، یہ بات انہوں نے تین بار دہرائی، پھر فرمایا: چار آدمیوں کے پاس علم تلاش کرو: عویمر ابو الدرداء، سلمان فارسی، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم کے پاس، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بے شک وہ (عبداللہ بن سلام) جنت میں جانے والے دس افراد میں دسویں ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور یزید بن عمیرہ سکسکی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وعبد الله بن صالح - على ما به من كلام - متابَع- أبو إدريس الخولاني: هو عائذ الله بن عبد الله-، وأخرجه ابن حبان (7165) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد-» [ترقيم الرساله 338] [ترقيم الشركة 333] [ترقيم العلميه 334]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 339
حدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثني النُّعمان بن المنذر، عن مكحول قال: وَجِعَ معاذُ بن جبل يومًا وعنده يزيد بن عَمِيرة الزُّبيدي، فبكى عليه يزيدُ، فقال له معاذ: ما يُبكِيكَ؟ قال: يُبكِيني ما كنتُ أسألُك كلَّ يومٍ، يَنقطِعُ عني، فقال معاذ: إنَّ العلم والإيمان بَشَاشَتان، قُمْ فالتمِسْهما، قال يزيد: وعندَ مَن أَلتمسُهما؟ فقال معاذ: عند أربعةِ نفرٍ عند عُويمِر أبي الدرداء، وعند عبد الله بن مسعود، وعند سلمان الفارسي، وعند عبد الله بن سَلَام، فإنه كان يقال:"إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنة"، قال يزيد: فقلت: وعند عمر بن الخَطَّاب؟ فقال: لا تَسألْه عن شيء، فإنه عنك مشغول (2) . وقد روى الزُّهْريُّ عن أبي إدريسَ طَرَفًا من هذا الحديث:
مکحول بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک دن بیمار ہوئے جبکہ ان کے پاس یزید بن عمیرہ زبیدی موجود تھے، یزید ان کی حالت دیکھ کر رونے لگے، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا: میں اس علم کے منقطع ہونے پر رو رہا ہوں جو میں آپ سے روزانہ حاصل کیا کرتا تھا، معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم اور ایمان تو خوشبو کی طرح ہیں، اٹھو اور انہیں تلاش کرو، یزید نے پوچھا: میں انہیں کن کے پاس تلاش کروں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چار افراد کے پاس؛ عویمر ابو الدرداء، عبداللہ بن مسعود، سلمان فارسی اور عبداللہ بن سلام کے پاس، کیونکہ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ جنت کے دس خوش نصیبوں میں سے دسویں ہیں۔ یزید نے پوچھا: اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ؟ انہوں نے کہا: ان سے کسی چیز کے بارے میں (اب) سوال نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے کاموں (خلافت کی ذمہ داریوں) میں مصروف ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 339]
تخریج الحدیث: «صحيح بما قبله، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يدرك معاذ بن جبل يقينًا، ويغلب على ظننا أنه لم يدرك يزيد بن عميرة أيضًا فهو تابعي كبير مخضرم» [ترقيم الرساله 339] [ترقيم الشركة 334]

الحكم على الحديث: صحيح بما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں