المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
جس نے مجھ پر وہ بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
حدیث نمبر: 355
أخبرَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن أيوب، عن بكر بن عَمْرو، عن عَمرو بن أبي نُعَيمة رَضِيع عبد الملك بن مروان - وكان امْرأَ صِدقٍ - عن مسلم بن يَسَار قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن قال عليَّ ما لم أَقُلْ، فليتبوَّأْ ببِناءٍ في جهنَّم، ومن أُفتيَ بغير علمٍ، كان إثمُه على مَن أفتاه، ومَن أشار على أخيه بأمرٍ يَعلَمُ أَنَّ الرُّشدَ في غيره، فقد خانه" (1) .
هذا حديث قد احتجَّ الشيخان برواته غير عمرٍو هذا (2) ، وقد وثَّقه بكر بن عمرو المَعافِري، وهو أحد أئمَّة أهل مصر، والحاجةُ بنا إلى لفظة التثبّت في الفتيا شديدة.
هذا حديث قد احتجَّ الشيخان برواته غير عمرٍو هذا (2) ، وقد وثَّقه بكر بن عمرو المَعافِري، وهو أحد أئمَّة أهل مصر، والحاجةُ بنا إلى لفظة التثبّت في الفتيا شديدة.
مسلم بن یسار سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھ پر وہ بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم میں اپنے ٹھکانے کی تیاری کر لے، اور جسے بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے، اور جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے معاملے میں مشورہ دیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ بھلائی اس کے علاوہ (کسی اور بات) میں ہے تو اس نے اس سے خیانت کی۔“
شیخین نے عمرو (بن ابی نعیمہ) کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور اسے بصرہ کے اماموں میں سے ایک بگر بن عمرو معافری نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ہمیں فتویٰ کے معاملے میں تحقیق و تثبت کے لفظ کی اشد ضرورت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 355]
شیخین نے عمرو (بن ابی نعیمہ) کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور اسے بصرہ کے اماموں میں سے ایک بگر بن عمرو معافری نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ہمیں فتویٰ کے معاملے میں تحقیق و تثبت کے لفظ کی اشد ضرورت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 355]
حدیث نمبر: 356
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن أبي هانئ الخَوْلاني، عن مسلم بن يَسَار، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"سيكون في آخرِ الزَّمان ناسٌ من أمَّتي يحدِّثونكم بما لم تَسْمَعُوا أنتم ولا آباؤُكم، فإيَّاكم وإيَّاهم" (3) .
هذا حديث ذَكَرَه مسلم في خُطْبة الكتاب مع الحكايات، ولم يُخرجاه في أبواب الكتاب، وهو صحيح على شرطهما جميعًا، ومحتاج إليه في الجَرْح والتعديل، ولا أعلمُ له علَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 351 - أورده مسلم في الخطبة ولا أعلم له علة
هذا حديث ذَكَرَه مسلم في خُطْبة الكتاب مع الحكايات، ولم يُخرجاه في أبواب الكتاب، وهو صحيح على شرطهما جميعًا، ومحتاج إليه في الجَرْح والتعديل، ولا أعلمُ له علَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 351 - أورده مسلم في الخطبة ولا أعلم له علة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانے میں میری امت میں سے ایسے لوگ ہوں گے جو تمہیں وہ باتیں سنائیں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، لہٰذا تم اپنے آپ کو ان سے بچا کر رکھنا۔“
امام مسلم نے اس حدیث کو کتاب کے مقدمے میں حکایات کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے اسے کتاب کے ابواب میں روایت نہیں کیا، حالانکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے اور جرح و تعدیل کے معاملے میں اس کی ضرورت ہے، اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 356]
امام مسلم نے اس حدیث کو کتاب کے مقدمے میں حکایات کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے اسے کتاب کے ابواب میں روایت نہیں کیا، حالانکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے اور جرح و تعدیل کے معاملے میں اس کی ضرورت ہے، اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 356]