المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. آخِرُ مَا عَهِدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
رسولُ اللہ ﷺ کا آخری عہد۔
حدیث نمبر: 390
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، أن يحيى بن ميمون الحَضْرمي أخبره عن أبي موسى الغافِقِي قال: آخرُ ما عَهِدَ إلينا رسولُ الله ﷺ أنه قال:"عليكم بكتابِ الله، وستَرجِعُون إلى قومٍ يحبُّون الحديثَ عني - أو كلمةً تشبهها - فمَن حَفِظَ شيئًا فليحدِّثْ به، ومن قال عليَّ ما لم أقُلْ فليَتبوَّأْ مَقعَدَه من النار" (1) . رواة هذا الحديث عن آخرهم يُحتَجُّ بهم، فأما أبو موسى مالك بن عُبادة الغافقي فإنه صحابي سكن مصر، وهذا الحديث من جُمْلة ما خرَّجناه عن الصحابي إذا صحَّ إليه الطريق، على أنَّ وَدَاعَةَ الجَنْبي قد روى أيضًا عن مالك بن عُبادة الغافقي، وهذا الحديث قد جمع لفظتين غريبتين: إحداهما قوله:"سترجعون إلى قوم يحبُّون الحديث عني"، والأخرى:"فمن حَفِظَ شيئًا فليحدِّثْ به"، وقد ذهب جماعة من أئمة الإسلام إلى أنَّ ليس للمحدِّث أن يحدِّثَ بما لا يحفظُه، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 385 - رواته محتج بهم وأبو موسى مالك بن عبادة صحابي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 385 - رواته محتج بهم وأبو موسى مالك بن عبادة صحابي
ابو موسیٰ غافقی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت ہمیں یہ فرمائی: ”تم پر اللہ کی کتاب لازم ہے، اور عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو مجھ سے حدیث سننا پسند کریں گے، پس جس نے (میری کوئی بات) یاد کی ہو وہ اسے بیان کر دے، اور جس نے مجھ پر وہ بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
اس حدیث کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں، ابو موسیٰ مالک بن عبادہ غافقی صحابی ہیں جو مصر میں مقیم ہوئے، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جو ہم نے صحابہ سے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہیں، اس میں دو نادر الفاظ جمع ہیں: ایک یہ کہ ”تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو مجھ سے حدیث سننا پسند کریں گے“ اور دوسرا ”جسے یاد ہو وہ بیان کرے“؛ ائمہ کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ محدث کو صرف وہی بیان کرنا چاہیے جو اسے حفظ ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 390]
اس حدیث کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں، ابو موسیٰ مالک بن عبادہ غافقی صحابی ہیں جو مصر میں مقیم ہوئے، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جو ہم نے صحابہ سے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہیں، اس میں دو نادر الفاظ جمع ہیں: ایک یہ کہ ”تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو مجھ سے حدیث سننا پسند کریں گے“ اور دوسرا ”جسے یاد ہو وہ بیان کرے“؛ ائمہ کی ایک جماعت کا موقف ہے کہ محدث کو صرف وہی بیان کرنا چاہیے جو اسے حفظ ہو، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 390]