🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. مَنْعُ مُعَاوِيَةَ قَاصًّا كَانَ يَقُصُّ بِمَكَّةَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، وَذِكْرُ أَقْوَامٍ تَتَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ .
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ گو کو اجازت کے بغیر مکہ میں بیان کرنے سے روکا اور فرمایا کہ خواہشات لوگوں میں اسی طرح دوڑتی ہیں جیسے بیماری کتے میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
ما حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع البَهْراني، حدثنا صفوان بن عمرو، عن الأزهَر بن عبد الله، عن أبي عامر عبد الله بن لُحَيّ قال: حَجَجْنا مع معاوية بن أبي سفيان، فلمّا قَدِمْنا مكة أُخبِرَ بقاصٍّ يَقُصُّ على أهل مكة مولًى لبني فَرُّوخ، فأرسل إليه معاويةُ فقال: أُمِرتَ بهذا القَصَص؟ قال: لا، قال: فما حَمَلَك على أن تَقُصَّ بغير إذن؟ قال: نُنشئُ علمًا عَلَّمَناه اللهُ ﷿، فقال معاوية: لو كنتُ تقدَّمتُ إليك لقَطَعتُ منك طائفة، ثم قام حين صلى الظهر بمكة فقال: قال النبي ﷺ:"إنَّ أهل الكتاب تَفرَّقوا في دينهم على ثنتين وسبعين ملّةً، وتفترقُ هذه الأُمَّة على ثلاث وسبعين، كلُّها في النار إلّا واحدةً؛ وهي الجماعة، ويخرج في أُمَّني أقوامٌ تَنجَارَى بهم تلك الأهواء كما يَتَجارَى الكلبُ بصاحبه، فلا يبقى منه عِرقٌ ولا مَفْصِلٌ إِلَّا دخله". والله يا معشرَ العرب لئن لم تقوموا بما جاءَ به محمد ﷺ، لغَيرُ ذلك أحْرى أن لا تقوموا به (1) . هذه أسانيد تقوم بها الحُجَّة في تصحيح هذا الحديث. وقد رُوِيَ هذا الحديث عن عبد الله بن عمرو بن العاص وعمرو بن عوف المُزَني بإسنادين، تفرَّد بأحدهما عبدُ الرحمن بن زياد الإفريقي، والآخر كثيرُ بن عبد الله المُزَني، ولا تقوم بهما الحُجَّة. أما حديث عبد الله بن عمرو:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 443 - هذه أسانيد تقوم بها الحجة أَمَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
ابوعامر عبداللہ بن لُحی فرماتے ہیں کہ ہم نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، جب ہم مکہ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ایک شخص مکہ والوں کو وعظ سنا رہا ہے، معاویہ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: پھر بغیر اجازت کے وعظ پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: ہم اس علم کو پھیلاتے ہیں جو اللہ نے ہمیں سکھایا ہے، معاویہ نے فرمایا: اگر میں تمہیں پہلے منع کر چکا ہوتا تو تمہارا کوئی عضو کاٹ دیتا۔ پھر معاویہ نے ظہر کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہلِ کتاب اپنے دین میں بہتر (72) ملتوں میں تقسیم ہوئے، اور یہ امت تہتر (73) ملتوں میں تقسیم ہوگی، ایک کے سوا سب آگ میں ہوں گی، اور وہ ایک الجماعۃ (مسلمانوں کی بڑی جماعت) ہے۔ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں خواہشات اس طرح دوڑیں گی جیسے پاگل کتے کے کاٹے ہوئے شخص (باؤلے پن) کے جسم میں زہر دوڑتا ہے کہ کوئی رگ یا جوڑ اس سے خالی نہیں رہتا۔ (پھر معاویہ نے فرمایا:) اے عربوں کی جماعت! اللہ کی قسم! اگر تم وہ دین لے کر کھڑے نہ ہوئے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں، تو دوسرے لوگوں کے لیے اس پر قائم نہ رہنا زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
یہ ایسی اسناد ہیں جن سے اس حدیث کی صحت پر حجت قائم ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 448]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
فأخبرَناه علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا ثابت بن محمد العابدُ، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن زياد، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"ليأتيَنَّ على أُمَّتِي ما أَتى على بني إسرائيل مِثلًا بمِثْل، حَذْوَ النعلِ بالنعل، حتى لو كان فيهم مَن نَكَحَ أمَّه علانيةً، كان في أمَّتي مثلُه. إنَّ بني إسرائيل افتَرَقوا على إحدى وسبعين مِلَّةً، وتفترقُ أمَّتي على ثلاث وسبعين مِلَّةً، كلُّها في النار إلّا مِلَّةً واحدة" فقيل له: ما الواحدة؟ قال:"ما أنا عليه اليومَ وأصحابي" (2) . وأما حديث عمرو بن عوف المُزَنيّ:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر وہی حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے، بالکل برابر، یہاں تک کہ اگر ان میں کسی نے اعلانیہ اپنی ماں سے نکاح کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا کرنے والا موجود ہوگا۔ بنی اسرائیل اکہتر (71) ملتوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر (73) ملتوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب آگ میں ہوں گی۔ پوچھا گیا: وہ ایک کون سی ہے؟ فرمایا: جس پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔
اس کی سند میں عبدالرحمن بن زیاد افریقی ہیں، امام حاکم نے اسے تائیدی روایت کے طور پر ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 449]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں