🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. النهي عن البول في الجحر تأكيد إطفاء السراج وتخمير الشراب وغلق الأبواب
سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت، چراغ بجھانے، برتن ڈھانپنے اور دروازے بند کرنے کی تاکید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى بن السكن الواسطي، حَدَّثَنَا المثنَّى بن معاذ العَنبَري، حَدَّثَنَا معاذ بن هشام. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم وعُبيد الله بن سعيد ومحمد بن المثنَّى ومحمد بن بشَّار وعباس العَنبَري وإسحاق بن منصور؛ قال إسحاق بن إبراهيم: أخبرنا، وقال الآخرون: حَدَّثَنَا معاذ بن هشام، حدَّثني أَبي، عن قَتَادة، عن عبد الله بن سَرجِس، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"لا يَبولَنَّ أحدُكم في الجُحْر، وإذا نمتُم فأَطْفِئُوا السَّراجَ، فإِنَّ الفأرةَ تأخذ الفَتِيلةَ فتَحرِقُ على أهل البيت، وأَوْكُوا الأسقيةَ، وخَمِّروا الشَّراب، وأَغلِقوا الأبوابَ". فقيل لقتادة: وما يُكرَه من البول في الجُحْر؟ فقال: إنها مساكن الجنِّ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 666 - على شرطهما"" وَإِذَا نِمْتُمْ: أَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتُحْرِقُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ"". فَقِيلَ لِقَتَادَةَ وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ فَقَالَ: «إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ»
سیدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے، اور جب تم سوؤ تو چراغ بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہا فتیلہ لے کر گھر والوں کو جلا دیتا ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور دروازے بند کر دیا کرو۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: وہ جنات کے رہنے کی جگہیں ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ہے کیونکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جبکہ قتادہ کا سیدنا عبد اللہ بن سرجس سے سماع ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 679]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ» تم میں سے کوئی بھی (زمین کے) سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جنات کے رہنے کے مقامات ہوتے ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے کیونکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور قتادہ کا سماع صحابہ کی ایک جماعت سے ثابت ہے جو عاصم بن سلیمان کے سماع سے بھی وسیع تر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 679N]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں