المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
60. تَطْوِيلُ الدُّعَاءِ فِي سُجُودِ تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَتَكْرَارُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِ شَيْئًا
رسولُ اللہ ﷺ سجدۂ تلاوت میں دعا کو لمبا کرتے اور بار بار یہ کہتے تھے: یا حی یا قیوم، اور اس پر کچھ اضافہ نہیں فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 904
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو علي عُبيد الله (2) بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عُبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوهَب، أخبرني إسماعيل بن عَوْن بن عُبيد الله بن أبي رافع، عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن جدِّه، عن علي قال: لما كان يومُ بدرٍ قاتلتُ شيئًا من قتالٍ، ثم جئتُ مُسرِعًا لأنظرَ إلى رسول الله ﷺ مَا فَعَلَ، فجئتُ فأَجِدُه وهو ساجد يقول:"يا حيُّ يا قَيُّومُ" لا يزيد عليها، فرجعتُ إلى القتال، ثم جئتُ وهو ساجد يقول ذلك، ثم ذهبتُ إلى القتال، ثم جئتُ وهو ساجد يقول ذلك، فلم يَزَلْ يقول ذلك حتى فَتَحَ الله عليه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس في إسناده مذكورٌ بجَرْح (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 809 - القزاز كذبه أبو داود وأما ابن وهب فاختلف قولهم فيه وإسماعيل فيه جهالة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس في إسناده مذكورٌ بجَرْح (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 809 - القزاز كذبه أبو داود وأما ابن وهب فاختلف قولهم فيه وإسماعيل فيه جهالة
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن میں نے کچھ دیر قتال کیا، پھر میں تیزی سے یہ دیکھنے کے لیے آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کر رہے ہیں، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں پڑے ہوئے صرف یہ کہہ رہے تھے: «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ» ”اے زندہ جاوید! اے کائنات کو سنبھالنے والے!“ آپ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ میں واپس قتال میں مصروف ہو گیا، پھر دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں یہی کہہ رہے تھے، میں پھر قتال کے لیے گیا اور تیسری بار آیا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں یہی کلمات کہہ رہے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرما دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس میں کوئی راوی مطعون نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 904]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس میں کوئی راوی مطعون نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 904]