المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
111. الَّذِي يُدْرِكُ الْإِمَامَ فِي الرُّكُوعِ أَوِ السُّجُودِ
وہ شخص جو امام کو رکوع یا سجدے میں پا لے۔
حدیث نمبر: 1025
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي سليمان، عن زيدٍ أبي عَتَّاب وسعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا جئتُم إلى الصلاة ونحن سجودٌ فاسجُدُوا ولا تَعدُّوها شيئًا، ومَن أدرَكَ الركعةَ فقد أدركَ الصلاة" (1) .
هذا حديث صحيح، قد احتَجَّ الشيخان برُواتِه عن آخرهم غير يحيى بن أبي سليمان، وهو شيخٌ من أهل المدينة سَكَنَ مصرَ ولم يُذكَر بجرح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1012 - صحيح ويحيى لم يذكر بجرح
هذا حديث صحيح، قد احتَجَّ الشيخان برُواتِه عن آخرهم غير يحيى بن أبي سليمان، وهو شيخٌ من أهل المدينة سَكَنَ مصرَ ولم يُذكَر بجرح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1012 - صحيح ويحيى لم يذكر بجرح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرو لیکن اسے (رکعت کے طور پر) شمار نہ کرو، اور جس نے (رکوع کے ساتھ) رکعت پا لی اس نے نماز پا لی۔“
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے یحییٰ بن ابی سلیمان کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور وہ اہل مدینہ کے ایک بزرگ ہیں جو مصر میں مقیم ہوئے اور ان پر کسی قسم کی جرح منقول نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1025]
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے یحییٰ بن ابی سلیمان کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور وہ اہل مدینہ کے ایک بزرگ ہیں جو مصر میں مقیم ہوئے اور ان پر کسی قسم کی جرح منقول نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه ضعف من أجل يحيى بن أبي سليمان، وقد سلف تخريجه والكلام عليه برقم (878)» [ترقيم الرساله 1025] [ترقيم الشركة 1017] [ترقيم العلميه 1012]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف