المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. فَضَائِلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن کی فضیلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1041
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي إملاءً، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا [أبو] (1) الرَّبيع الزَّهراني ويحيى بن المغيرة، قالا: حدثنا جَرِير بن عبد الحميد، عن منصور، عن أبي مَعْشَر، عن إبراهيم، عن علقمة، عن قَرْثَعٍ الضَّبِّي -وكان قرثعٌ من القرّاء الأولين- عن سلمان قال: قال لي رسولُ الله ﷺ:"يا سلمانُ، ما يومُ الجمعة؟" قلت: الله ورسوله أعلم، قال:"يا سلمانُ، يومُ الجمعة فيه جُمِع أبوك -أو أبوكم- وأنا أُحدِّثك عن يوم الجمعة: ما من رجلٍ يَتطهَّرُ يومَ الجمعة كما أُمِرَ، ثم يَخرُج من بيته حتى يأتيَ الجمعةَ فيقعدَ فيُنصِتَ حتى يَقضِيَ صلاته إلّا كان كفَّارةً لما قبلَه مِن الجمعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، واحتجَّ الشيخان بجميع رواته غير قرثع، سمعتُ أبا علي القارئ يقول: أردت أن أجمَع مسانيد قرثع الضَّبِّي، فإنه من زهّاد التابعين، فلم يُسنِد تمامَ العشرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1028 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، واحتجَّ الشيخان بجميع رواته غير قرثع، سمعتُ أبا علي القارئ يقول: أردت أن أجمَع مسانيد قرثع الضَّبِّي، فإنه من زهّاد التابعين، فلم يُسنِد تمامَ العشرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1028 - صحيح
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے سلمان! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سلمان! جمعہ وہ دن ہے جس میں تمہارے باپ (آدم علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا -یا انہیں جمع کیا گیا- اور میں تمہیں جمعہ کے دن کی فضیلت بتاتا ہوں: جو شخص جمعہ کے دن اس طرح طہارت حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا ہے، پھر اپنے گھر سے نکل کر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے اور خاموشی سے بیٹھ کر غور سے (خطبہ) سنتا ہے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لے، تو یہ عمل اس کے لیے پچھلے جمعہ سے لے کر اب تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، شیخین نے قرثع کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، میں نے ابوعلی القاری کو کہتے سنا کہ میں نے قرثع الضبی کی تمام مسانید جمع کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ زاہد تابعین میں سے ہیں، لیکن ان کی مرویات کی کل تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1041]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، شیخین نے قرثع کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، میں نے ابوعلی القاری کو کہتے سنا کہ میں نے قرثع الضبی کی تمام مسانید جمع کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ زاہد تابعین میں سے ہیں، لیکن ان کی مرویات کی کل تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1041]