المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا
رسولُ اللہ ﷺ کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی۔
حدیث نمبر: 1199
حدثني علي بن حَمْشاذ، حدثنا إبراهيم بن الحسين الكِسَائي، حدثنا الربيع بن يحيى، حدثنا يزيد بن إبراهيم التُّستَري، عن محمد بن سِيرين، عن عبد الله بن شَقِيق العُقَيلي، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يصلي قائمًا وقاعدًا، فإذا افتتح الصلاة قائمًا ركع قائمًا، وإذا افتتح الصلاة قاعدًا ركع قاعدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (1) ، وقد خرجتُه قبل هذا من حديث حُمَيد عن عبد الله بن شقيق، وهذا موضعه، وحديث ابن سيرين هذا شاهدٌ صحيح لما تقدم.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ (1) ، وقد خرجتُه قبل هذا من حديث حُمَيد عن عبد الله بن شقيق، وهذا موضعه، وحديث ابن سيرين هذا شاهدٌ صحيح لما تقدم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر دونوں طرح نماز پڑھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر نماز شروع کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، میں نے اس سے پہلے حمید کی روایت سے عبداللہ بن شقیق عن عائشہ کی حدیث نقل کی ہے جو اس کے لیے صحیح شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1199]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، میں نے اس سے پہلے حمید کی روایت سے عبداللہ بن شقیق عن عائشہ کی حدیث نقل کی ہے جو اس کے لیے صحیح شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل الربيع بن يحيى» [ترقيم الرساله 1199] [ترقيم الشركة 1189]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1200
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع، عن إبراهيم بن طَهْمان، عن حسين المعلِّم، عن عبد الله بن بُرَيدة، أنَّ عِمْران بن حُصَين قال: كان بيَ الناصُورُ، فسألت النبيَّ ﷺ عن الصلاة، فقال:"صلِّ قائمًا، فإن لم تستطع فجالسًا، فإن لم تستطع فعلى جَنْب" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه البخاري من حديث يزيد بن زُرَيع عن حسين المعلِّم مختصرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه البخاري من حديث يزيد بن زُرَيع عن حسين المعلِّم مختصرًا (1) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر کی بیماری تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام بخاری نے حسین معلم کی روایت سے اسے صرف مختصراً بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1200]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام بخاری نے حسین معلم کی روایت سے اسے صرف مختصراً بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1200]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، حسين المعلِّم: هو الحسين بن ذكوان» [ترقيم الرساله 1200] [ترقيم الشركة 1190]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح