🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. صَلَاةُ الْحَاجَةِ
نمازِ حاجت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1214
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا فائد أبو الوَرْقاء العطّار، عن عبد الله بن أبي أَوفى، قال: خرج علينا رسولُ الله ﷺ يومًا فقعد فقال:"مَن كانت له حاجةٌ إلى الله أو إلى أحدٍ من بني آدم، فليتوضأ وليُحسِنْ وُضوءَه، ثم ليصلِّ ركعتين، ثم يُثْني على الله، ويصلي على النبي ﷺ، وليقل: لا إله إلّا الله الحليمُ الكريم، سبحان الله ربِّ العرش العظيم، الحمد لله ربِّ العالمين، أسألك عزائمَ مغفرتِك، والعِصمةَ من كل ذَنْب، والسَّلامةَ من كل إثم" (2) . فائد بن عبد الرحمن أبو الوَرْقاء كوفيٌّ عِدَاده في التابعين، وقد رأيتُ جماعةً من أعقابه، وهو مستقيم الحديث، إلّا أنَّ الشيخين لم يخرجا عنه، وإنما جعلتُ حديثه هذا شاهدًا لما تقدم.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ کر فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ سے یا بنی آدم میں سے کسی سے کوئی حاجت ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ» اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں جو نہایت بردبار اور کریم ہے، پاک ہے وہ اللہ جو عرشِ عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، میں تجھ سے تیری مغفرت کے اسباب، ہر گناہ سے بچاؤ اور ہر برائی سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں۔
فائدہ بن عبدالرحمن ابوالورقاء کوفی ہیں جن کا شمار تابعین میں ہوتا ہے، وہ مستقیم الحدیث ہیں مگر شیخین نے ان سے روایت نہیں کی، میں نے ان کی اس حدیث کو سابقہ روایات کے لیے بطورِ شاہد ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، فائد أبو الورقاء العطار» [ترقيم الرساله 1214] [ترقيم الشركة 1203]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1215
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا أبو الطَّاهر أحمد بن عمرو، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني حُيَيُّ بن عبد الله، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ في الجنة غُرَفًا يُرى ظاهرُها من باطنها، وباطنُها من ظاهرِها"، قال أبو مالك الأشعري: لمن هي يا رسول الله؟ قال:"لمن أطابَ الكلام، وأطعَمَ الطعام، وبات قائمًا والناسُ نِيام" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے دیکھا جا سکتا ہے، سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کن کے لیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کے لیے جو نرم گفتگو کرتے ہیں، کھانا کھلاتے ہیں اور راتوں کو اس وقت (تہجد کے لیے) کھڑے ہوتے ہیں جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وقد سلف برقم (273)» [ترقيم الرساله 1215] [ترقيم الشركة 1204]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زهير، عن العلاء بن المسيّب، عن عمرو بن مُرَّة، عن طلحة بن يزيد الأنصاري، عن حُذيفةَ بن اليمان قال: صليتُ مع رسول الله ﷺ ليلةً من رمضان في حُجْرة من جَريدِ النخل، قال: فقام فكبَّر فقال:"الله أكبرُ ذو الجَبَروت والمَلَكوت، وذو الكِبرياء والعَظَمة"، ثم افتتح البقرةَ فقرأ، فقلت: يَبلغُ رأسَ المئة، ثم قلت: يَبلغُ رأسَ المئتين، قال: ثم خَتَمها، ثم افتتح آلَ عمران، فقرأها، ثم افتتح النساء فقرأها، لا يمرُّ بآية التخويف إلّا وَقَفَ فتعوَّذ، ثم ركع مثلَ ما قام، يقول:"سبحانَ ربيَ العظيم"، يُردِّدُهن، ثم رفع رأسَه فقال:"سَمِع الله لمن حَمِده، اللهم ربَّنا لك الحمد"، مثلَ ما ركع، ثم سَجَدَ مثلَ ما قام يقول:"سبحان ربيَ الأعلى"، ويقول بين السجدتين:"ربِّ اغفِرْ لي" فما صلَّى إلّا أربع ركَعَات من صلاة العَتَمة من أولِ الليل إلى آخرِه حتى جاء بلالٌ فآذَنَه بصلاة الغَدَاة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [من كتاب السهو] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في رجب سنةَ خمسٍ وتسعين وثلاث مئة:
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان کی ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے ایک حجرے میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی: «اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَذُو الْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» اللہ بہت بڑا ہے، جو صاحبِ جبروت، صاحبِ ملکوت اور بڑائی و عظمت والا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ شروع کی، میں نے سوچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو آیات پر رکوع کریں گے، پھر میں نے سوچا کہ دو سو پر کریں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت ختم کی، پھر آل عمران شروع کی اور اسے پڑھا، پھر سورہ نساء شروع کی اور اسے پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرانے والی کسی بھی آیت سے گزرتے تو وہاں رک کر اللہ کی پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام جتنا طویل ہی رکوع کیا اور اس میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» دہراتے رہے، پھر سر اٹھا کر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہا اور رکوع جتنا ہی طویل قیام کیا، پھر سجدہ کیا اور قیام جتنا ہی طویل سجدہ کیا جس میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہتے رہے، اور دو سجدوں کے درمیان «رَبِّ اغْفِرْ لِي» کہتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے شروع سے آخر تک عشاء کی چار رکعتیں ہی پڑھی تھیں کہ اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز کی اطلاع دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب السہو کا آغاز] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع؛ طلحة بن يزيد الأنصاري - وهو أبو حمزة الكوفي - لم يسمعه من حذيفة بن اليمان، كما قال النسائي، بينهما صلة بن زفر كما سيأتي بيانه في التخريج- معاوية بن عمرو: هو ابن المهلَّب الأزدي، وزهير: هو ابن معاوية بن حُديج-» [ترقيم الرساله 1216] [ترقيم الشركة 1205]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں