المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. صَلَاةُ الْمَغْرِبِ فِي الْخَوْفِ مَرَّتَيْنِ مَعَ كُلِّ طَائِفَةٍ مَرَّةً
حالتِ خوف میں مغرب کی نماز دو مرتبہ پڑھنا، ہر جماعت کے ساتھ ایک مرتبہ۔
حدیث نمبر: 1266
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا محمد بن مَعمَر بن رِبْعي القيسي، حدثنا عمرو بن خليفة البكراوي، حدثنا أشعث بن عبد الملك الحُمراني، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ النبي ﷺ صلى بالقوم في الخوف صلاة المغرب ثلاثَ رَكَعَاتٍ ثم انصرف، وجاء الآخرون فصلَّى بهم ثلاثَ ركعات (2) . سمعت أبا عليٍّ الحافظ يقول:
هذا حديث غريب أشعث الحُمْراني لم يكتبه إلّا بهذا الإسناد. قال الحاكم وإنه صحيح على شرط الشيخين.
هذا حديث غريب أشعث الحُمْراني لم يكتبه إلّا بهذا الإسناد. قال الحاكم وإنه صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز خوف کے طور پر مغرب کی نماز کی تین رکعتیں پڑھائیں، یہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے (اور چلے گئے) اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم (جنہوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی) آ گئے۔ حضور علیہ السلام نے ان کو بھی تین رکعتیں پڑھائیں۔ ٭٭ (امام حاکم کہتے ہیں) میں نے ابوعلی الحافظ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ اشعث الحمرانی نے اس حدیث کو اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے، امام حاکم کہتے ہیں: یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1266]
حدیث نمبر: 1267
أخبرنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن بن سهل الدَّبَّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا جَرِير بن عبد الحميد، عن منصور، عن مجاهد، عن أبي عيّاش الزُّرَقي قال: كنا مع رسول الله ﷺ بعُسْفان وعلى المشركين خالدُ بن الوليد، فصلَّينا الظُّهر، فقال المشركون: لقد أصبنا غِرّةً، لقد أَصبنا غَفْلةً، لو كنا حَمَلْنا عليهم وهم في الصلاة، فنزلت آية القَصْر بين الظهر والعصر، فلما حَضَرَت العصرُ قام رسولُ الله ﷺ مستقبلَ القبلة والمشركون أمامه، فصفَّ خلفَ رسول الله ﷺ صَفٌّ، وصفَّ بعد ذلك الصفِّ صفٌّ آخر، فرَكَع رسولُ الله ﷺ ورَكَعوا جميعًا، ثم سجد وسجد الصفُّ الذين يَلُونَه، وقام الآخَرون يَحرسُونهم، فلما صلَّى هؤلاء السجدتين وقاموا سجد الآخَرون الذين كانوا خَلفَهم، ثم تأخر الصفُّ الذي يليه إلى مقام الآخرين، وتقدم الصفُّ الأخير إلى مقام الصفِّ الأول، ثم ركع رسولُ الله ﷺ وركعوا جميعًا، ثم سجد الصفُّ الذي يليه، وقام الآخَرون يَحرسُونهم، فلما جلس رسولُ الله ﷺ والصفُّ الذي يليه سَجَدَ الآخرون، ثم جلسوا جميعًا، فسلَّم عليهم جميعًا، فصلَّاها بعُسْفان وصلَّاها يومَ بني سُلَيم (1) .
هذا حديثٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديثٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوعیاش الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عسفان میں تھے اور مشرکوں کے سپہ سالار خالد بن ولید تھے، ہم نے نماز ظہر ادا کی، مشرکوں نے پروگرام بنایا کہ ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے کہ مسلمان نماز میں (جنگ کی طرف) متوجہ نہیں ہوتے، اگر ہم ان پر اس وقت حملہ کریں جب یہ نماز کی حالت میں ہوتے ہیں (تو ہمیں کامیابی مل سکتی ہے) تو ظہر اور عصر کے درمیان ” نماز قصر “ کی آیت نازل ہو گئی، جب نماز عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک صف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک اور صف بنا لی، پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو دونوں صفوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو جو صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا اور ان سے پیچھے والی صف والے صحابہ رضی اللہ عنہم ان کی حفاظت کی غرض سے کھڑے رہے پھر اگلی صف والوں نے دو سجدے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو پچھلی صف والوں نے سجدے کر لیے پھر اگلی صف والے پیچھے کھسک گئے اور پچھلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے (اور پیچھے والے آگے ہو گئے) پھر دونوں صفوں والوں نے رکوع کیا اور اگلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ پیچھے والے ان کی حفاظت کی غرض سے کھڑے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اگلی صف والے بھی بیٹھ گئے اور پیچھے والوں نے سجدہ کر لیا۔ پھر یہ سب لوگ بیٹھ گئے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا سلام پھیرا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ” عسفان “ میں پڑھی اور بنی سلیم کے دن پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1267]
حدیث نمبر: 1268
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح، أخبرنا أبو الأسود، أنه سَمِع عروة بن الزُّبير يحدِّث عن مروان بن الحكم، أنه سأل أبا هريرة: هل صلَّيتَ مع رسول الله ﷺ صلاة الخوف؟ قال أبو هريرة: نعم، قال مروان: متى؟ فقال أبو هريرة: عامَ غزوة نَجْد؛ قام رسول الله ﷺ إلى الصلاة، صلاةِ العصر، فقامت معه طائفة، وطائفةٌ أخرى مقابلَ العدوِّ، وظهورُهم إلى القِبلة، فكبَّر رسول الله ﷺ، فكبَّروا جميعًا، الذين معه والذين مقابلَ العدوِّ، ثم رَكَع رسول الله ﷺ ركعةً واحدةً، وركعت الطائفةُ التي خَلفَه، ثم سَجَد فسجدتِ الطائفةُ التي تليه، والآخرونَ قيامٌ مقابلَ العدو، ثم قام رسولُ الله ﷺ وقامت الطائفةُ التي معه وذهبوا إلى العدوِّ فقابلوهم، وأقبلتِ الطائفةُ [التي كانت] (1) مُقابِلي العدو فرَكَعوا وسَجَدوا، ورسولُ الله ﷺ قائمٌ كما هو، ثم قاموا فرَكَع رسول الله ركعةً أخرى وركعوا معه، وسَجَد وسجدوا معه، ثم أقبلت الطائفةُ التي كانت مُقابِلي العدو فرَكَعوا وسجَدَوا، ورسولُ الله ﷺ قاعدٌ ومن معه، ثم كان السلامُ، فسلَّم رسول الله ﷺ وسلَّموا جميعًا، فكان لرسولِ الله ﷺ ركعتين (2) ، ولكل رجلٍ من الطائفتين ركعةً ركعة (3) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. آخر كتاب صلاة الخوف [من كتاب الجنائز]
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. آخر كتاب صلاة الخوف [من كتاب الجنائز]
مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے (کبھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ” صلوۃ الخوف “ پڑھی ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ مروان نے پوچھا: کب؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: غزوہ نجد کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آپ کے ہمراہ کھڑی ہو گئی اور دوسری جماعت دشمنوں کے مقابلے میں کھڑی رہی، ان کی پشت قبلہ کی طرف تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو جتنے لوگ آپ کے ہمراہ جماعت میں شریک تھے ان سب نے تکبیر کہی اور جو دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہوئے تھے، انہوں نے بھی تکبیر کہی۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا تو آپ کے ہمراہ جو جماعت تھی، انہوں نے بھی رکوع کیا، جبکہ دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ کے ہمراہ جو جماعت تھی وہ جا کر دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور یہ جماعت جو کہ دشمن کے مقابلے میں تھی آئی، انہوں نے آ کر خود ہی رکوع بھی کیا اور سجدہ بھی کیا اور اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدستور کھڑے رہے۔ پھر یہ لوگ (دو سجدے کرنے کے بعد) کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کا رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ رکوع کیا، آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا۔ پھر وہ جماعت بھی آ گئی جو دشمن کے مقابلے میں کھڑی تھی انہوں نے آ کر خود ہی رکوع اور سجدہ کیا اور اس دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے والی پہلی جماعت کے لوگ بیٹھے رہے، اس کے بعد سلام کا موقع تھا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور آپ کے ہمراہ تمام لوگوں نے سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں اور دونو جماعتوں کی ایک ایک ہوئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ/حدیث: 1268]