🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. النَّهْيُ عَنْ تَمَنِّي الْمَوْتِ
موت کی تمنا کرنے سے ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1269
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا أبي وشعيبُ بن الليث قالا: أخبرنا الليث بن سعد، عن يزيد بن الهاد، عن هند بنت الحارث، عن أم الفضل أنَّ رسول الله ﷺ دخل عليهم وعباسٌ عمُّ رسول الله ﷺ يشتكي، فتمنَّى عباسٌ الموت، فقال له رسولُ الله ﷺ:"يا عمُّ، لا تتمنَّ الموتَ، فإنك إن كنتَ محسِنًا كنتَ تؤخَّرُ تزدادُ إحسانًا إلى إحسانك خيرًا لك، وإن كنتَ مسيئًا فإن تؤخَّرُ تَستعتِبْ من إساءتك خيرًا لك، فلا تتمنَّ الموت" (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا (2) على حديث قيس عن (3) خبَّاب: لولا أنَّ رسول الله ﷺ نهانا أن نتمنَّى الموتَ لتمنَّيتُه.
ہند بنت حارث، ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیمار تھے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے موت کی تمنا کی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے چچا! موت کی تمنا نہ کریں، کیونکہ اگر آپ نیکوکار ہیں تو آپ کو مہلت دی جائے گی تاکہ آپ اپنی نیکی میں مزید نیکی کا اضافہ کریں جو آپ کے لیے بہتر ہے، اور اگر آپ گنہگار ہیں تو آپ کو مہلت دی جائے گی تاکہ آپ اپنے گناہوں سے توبہ کریں جو آپ کے لیے بہتر ہے، پس موت کی تمنا نہ کریں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے قیس کی خباب سے مروی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی تمنا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی تمنا کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، رجاله ثقات عن آخرهم غير هند بنت الحارث - وهي الخثعمية امرأة عبد الله بن شداد بن الهاد - فإنه لم يرو عنها غير يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، وهي زوجة ابن ابن عمِّ أبيه، وذكرها ابن حبان في ثقات التابعين 5/ 517. أم ...» [ترقيم الرساله 1269] [ترقيم الشركة 1258]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں