المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ عَمَلًا
تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں لمبی ہوں اور اعمال اچھے ہوں۔
حدیث نمبر: 1270
أخبرنا مُكْرَم بن أحمد القاضي، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر، عن سليمان بن بلال، قال: قال زيد بن أسلم: قال محمد بن المُنكدِر: سمعت جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله ﷺ:"ألا أنبِّئكم بخِيارِكم من شِراركم؟" قالوا: بلى، قال:"خيارُكم أطوَلُكم أعمارًا، وأحسَنُكم عملًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيحٌ على شرط مسلم:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيحٌ على شرط مسلم:
محمد بن منکدر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں میں سے تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین وہ ہیں جن کی عمریں سب سے لمبی اور اعمال سب سے اچھے ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کے لیے امام مسلم کی شرط پر ایک صحیح شاہد موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1270]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کے لیے امام مسلم کی شرط پر ایک صحیح شاہد موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو بكر: هو عبد الحميد بن أبي أويس، أخو إسماعيل بن أبي أويس.» [ترقيم الرساله 1270] [ترقيم الشركة 1259]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1271
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن محمد الكاتب، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سلمة، عن حُميد ويونس وثابت، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أيُّ الناس خيرٌ؟ قال:"مَن طَالَ عمرُه وحَسُن عملُه". قال: فأيُّ الناس شرّ؟ قال:"من طال عمرُه وساءَ عملُه" (2) .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کی عمر طویل ہو اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔“ اس شخص نے پھر دریافت کیا: ”تو لوگوں میں سب سے برا کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جس کی عمر تو لمبی ہو مگر اس کے اعمال برے ہوں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،علي بن عبد العزيز: هو ابن المرزبان أبو الحسن البغوي، وحميد: هو ابن أبي حميد الطويل، ويونس: هو ابن عبيد العبدي، وثابت: هو ابن أسلم البناني، والحسن: هو ابن يسار البصري، وأبو بكرة صحابيه اسمه: نُفيع بن الحارث.» [ترقيم الرساله 1271] [ترقيم الشركة 1260]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1272
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بنُ محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا المعتمِر. وحدثنا محمد بنُ صالح بن هانئ، حدثنا جعفر بنُ محمد بن سَوَّار، حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر؛ جميعًا عن حميدٍ، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا أرادَ الله بعبدٍ خيرًا استعمَلَه"، قال: فقيل: كيف يَستعملُه؟ قال:"يُوفِّقُه لعملٍ صالحٍ قبل الموت" (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
هذا حديثٌ صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے (اپنے دین کے لیے) استعمال کر لیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: ”اللہ اسے کیسے استعمال فرماتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسے موت سے پہلے عملِ صالح کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک شاہد حدیث درج ذیل صحیح سند کے ساتھ موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1272]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اس کی ایک شاہد حدیث درج ذیل صحیح سند کے ساتھ موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،المعتمر: هو ابن سليمان، وحميد: هو ابن أبي حميد الطويل.» [ترقيم الرساله 1272] [ترقيم الشركة 1261]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1273
أخبرَناهُ الحسن بن يعقوب العدلُ، حدثنا يحيى بنُ أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني معاوية بن صالح، حدثني عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن عمرو بن الحَمِق قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أحبَّ الله عبدًا عَسَلَه" قال: يا رسول الله، وما عَسَلَه؟ قال:"يُوفِّقُ له عملًا صالحًا بين يدي أجَلِه حتى يرضى عنه جيرانُه" أو قال:"مَن حولَه" (2) .
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ عزوجل کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے «عَسَلَه» ”شہد جیسا میٹھا“ بنا دیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! اسے شہد جیسا میٹھا بنانے سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کی موت سے ذرا پہلے اسے کسی عملِ صالح کی توفیق بخشتا ہے یہاں تک کہ اس کے پڑوسی“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کے ارد گرد رہنے والے اس سے راضی و خوش ہو جاتے ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل يحيى بن أبي طالب.» [ترقيم الرساله 1273] [ترقيم الشركة 1262]
الحكم على الحديث: إسناده قوي