🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب مَا لاَ يَجُوزُ مِنَ الثَّمَرَةِ فِي الصَّدَقَةِ
باب: جن پھلوں کو زکاۃ میں دینا جائز نہیں ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ". قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَسْنَدَهُ أَيْضًا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جعرور» اور «لون الحبیق» کو زکاۃ میں لینے سے منع ۱؎ فرمایا، زہری کہتے ہیں: یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1607]
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ «جُعْرُورٍ» اور «لَوْنِ الْحُبَيْقِ» قسم کی (ردی) کھجوریں صدقے میں قبول کی جائیں۔ امام زہری رحمہ اللہ نے وضاحت کی کہ یہ مدینے کی کھجوروں کی دو قسموں کے نام ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو ابوالولید نے بھی بواسطہ سلیمان بن کثیر امام زہری سے مسند ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4658)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 27 (2494) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین: ابن شہاب زھری سے روایت میں ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: زکاۃ میں اوسط درجہ کا مال دیا جاتا ہے، نہ بہت عمدہ اور نہ بہت خراب، کھجور کی مذکورہ دونوں قسمیں ردی اور خراب ہیں، اس لئے انہیں زکاۃ میں دینے سے منع فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري مدلس وعنعن
وانظر سنن النسائي (2494) وسنده حسن فإنه يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1608
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصَا، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قَنَا حَشَفًا، فَطَعَنَ بِالْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، وَقَالَ:" لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا" وَقَالَ:" إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا: اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا، پھر فرمایا: یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» (خراب قسم کی کھجور) کھائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1608]
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مسجد میں تشریف لائے جبکہ آپ کے ہاتھوں میں عصا تھا اور کسی نے ردی قسم کی خشک سی کھجوروں کا ایک گچھا لٹکا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لاٹھی سے اس گچھے میں ٹھوکا دیا اور فرمایا: یہ صدقہ کرنے والا اس سے عمدہ بھی صدقہ کر سکتا تھا۔ اور فرمایا: یہ شخص قیامت کے روز ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 27 (2495)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 19 (1821)، (تحفة الأشراف:10914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/23، 28) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (1821 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں