المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ عَنُه مِنْ سَيِّئَاتِهِ
مؤمن کے جسم کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1301
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يعلى بن عُبيد، حدثنا طلحة بن يحيى، عن أبي بُرْدة (1) ، عن معاوية قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ما من شيءٍ يصيبُ المؤمنَ فِي جَسَده يُؤذِيهِ، إِلَّا كفَّر عنه من سَيئاته" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کو اس کے جسم میں پہنچنے والی کوئی بھی ایسی چیز جو اسے اذیت دے، وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1301]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل طلحة بن يحيى التيمي، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 1301] [ترقيم الشركة 1289]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1302
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن سَلْمان الحَجْريّ، عن عمرو بن أبي عمرو، عن المَقْبريّ، عن أبي هريرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الله لَيَبتلي عبدَه بالسَّقَم حتى يُكفِّرَ ذلك عنه كلَّ ذَنْب" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیماری کے ذریعے آزماتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بیماری اس کے ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1302]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،عبد الرحمن بن سلمان الحَجْري مختلف في توثيقه وتضعيفه، وخلاصة القول فيه أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد، وحديثه هذا له شواهد، وانتهى الحافظ ابن حجر فيه إلى أنه لا بأس به. والحَجْري - بحاء مهملة مفتوحة، ثم جيم ساكنة - منسوب إلى حَجْر رُعَين وهي قبيلة معروفة.» [ترقيم الرساله 1302] [ترقيم الشركة 1290]
الحكم على الحديث: إسناده حسن