🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. تَقْبِيلُ الْمَيِّتِ
میت کو بوسہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1350
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا قَبِيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن عاصم بن عُبيد الله، عن القاسم بن محمد، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ قبَّل عثمانَ بن مَظْعون وهو ميت وهو يبكي، قال: وعيناه تُهْراقانِ (1) .
هذا حديث مُتداوَلٌ بين الأئمة إلّا أنَّ الشيخين لم يحتجّا بعاصم بن عُبيد الله، وشاهدُه الصحيح المعروف حديث عبد الله بن عباس، وجابر بن عبد الله، وعائشة: أنَّ أبا بكرٍ الصدِّيق قبَّل النبيَّ ﷺ وهو ميتٌ (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا جبکہ وہ فوت ہو چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (غم سے) رو رہے تھے، راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
یہ حدیث ائمہ کے ہاں متداول اور مقبول ہے لیکن شیخین نے عاصم بن عبید اللہ سے احتجاج نہیں کیا، جبکہ اس کی معروف صحیح شاہد حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدہ عائشہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث: «حديث قابل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله - وهو ابن عاصم بن عمر بن الخطاب - لكن روي ما يشهد له كما سيأتي. عبد الرحمن: هو ابن مهدي، وسفيان: هو ابن سعيد الثوري.» [ترقيم الرساله 1350] [ترقيم الشركة 1338]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں