🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. صَلَاةُ الْجِنَازَةِ فِي الْبَيْتِ
نمازِ جنازہ گھر میں ادا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الطّاهر وهارون بن سعيد، قالا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عُمَارة بن غَزِيَّة، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه: أنَّ أبا طلحةَ دعا رسولَ الله ﷺ إلى عُمير بن أبي طلحة، حين تُوفِّي، فأتاهم رسولُ الله ﷺ، فصلَّى عليه في منزلهم، فتقدَّم رسولُ الله ﷺ، وكان أبو طلحة وراءَه وأمُّ سُليم وراءَ أبي طلحة، ولم يكن معهم غيرُهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وسُنَّةٌ غريبةٌ في إباحة صلاة النساء على الجنائز، ولم يُخرجاه.
سیدنا اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمیر بن ابی طلحہ کے جنازے کے لیے بلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور ان کے گھر میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی (نماز کے کیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہوئے، ان کے پیچھے ابوطلحہ تھے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ کے پیچھے تھیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہ عورتوں کے لیے نماز جنازہ کے جواز میں سنت غریبہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1366]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں