المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. صَلَاةُ الْجِنَازَةِ فِي الْبَيْتِ
نمازِ جنازہ گھر میں ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1366
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الطّاهر وهارون بن سعيد، قالا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عُمَارة بن غَزِيَّة، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه: أنَّ أبا طلحةَ دعا رسولَ الله ﷺ إلى عُمير بن أبي طلحة، حين تُوفِّي، فأتاهم رسولُ الله ﷺ، فصلَّى عليه في منزلهم، فتقدَّم رسولُ الله ﷺ، وكان أبو طلحة وراءَه وأمُّ سُليم وراءَ أبي طلحة، ولم يكن معهم غيرُهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وسُنَّةٌ غريبةٌ في إباحة صلاة النساء على الجنائز، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وسُنَّةٌ غريبةٌ في إباحة صلاة النساء على الجنائز، ولم يُخرجاه.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنے بیٹے) عمیر بن ابی طلحہ کی وفات پر بلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے گھر میں ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کھڑے ہوئے، ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور امِ سلیم ابوطلحہ کے پیچھے کھڑی ہوئیں، اور ان کے علاوہ وہاں کوئی اور موجود نہ تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ ایک نایاب (غریب) سنت ہے جو عورتوں کے جنازے کی نماز پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1366]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ ایک نایاب (غریب) سنت ہے جو عورتوں کے جنازے کی نماز پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: «إسناده إلى عبد الله بن أبي طلحة صحيح، إلّا أنَّ عبد الله هذا لم يدرك هذه القصة، والغالب أنه رواها عن أحدٍ من أهل بيته، فهم أصحاب القصة، وبذلك يكون قد أرسله عن صحابيٍّ، ولا يضر ذلك في صحة الحديث، والله أعلم. أبو الطاهر: هو أحمد بن عمرو بن عبد الله بن السرح المصري.» [ترقيم الرساله 1366] [ترقيم الشركة 1354]
الحكم على الحديث: إسناده إلى عبد الله بن أبي طلحة صحيح